فرانس میں شدید گرمی اور جان لیوا ہیٹ ویو کے ستائے ہوئے شہری سپر مارکیٹس میں اے سی اور پنکھے خریدنے کے لیے ایک دوسرے سے لڑ پڑے۔ شدید گرمی کے اس موسم میں الیکٹرانک اشیاء کے حصول کے لیے ہونے والے اس جھگڑے اور افراتفری کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہیں، جس نے دیکھنے والوں کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔
فرانس میں پڑنے والی اس شدید گرمی کے باعث 2 جولائی کو لِڈل فرانس (Lidl France) کی جانب سے پنکھوں اور پورٹیبل اے سی یونٹس پر ایک خصوصی رعایتی سیل کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس رعایتی سیل کے آغاز نے کئی اسٹورز، بالخصوص دارالحکومت پیرس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید ترین افراتفری اور ہلچل کے مناظر پیدا کر دیے۔
آدھی رات سے قطاریں اور ہجوم کا دباؤ:
پیرس کے 14ویں ارونڈیسمنے (arrondissement) کے ایک اسٹور پر گرمی سے بے حال لوگ آدھی رات کے قریب سے ہی لمبی قطاروں میں کھڑے ہونا شروع ہو گئے تھے۔ صبح کے وقت جب اسٹور کھلنے کا وقت ہوا تو وہاں جمع ہونے والا ہجوم 300 سے 400 افراد تک پہنچ چکا تھا، جس کے بعد دکان کھلتے ہی سارا اسٹاک محض 30 سے 60 منٹوں کے اندر ہی مکمل طور پر فروخت ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: یورپ میں 35 ڈگری کی گرمی پاکستان کی 45 ڈگری دھوپ سے زیادہ ظالم کیوں محسوس ہوتی ہے؟
اسٹور کے اندر سستا سامان خریدنے کی جلدی میں شدید دھکم پیل دیکھنے میں آئی، جس کے نتیجے میں کئی لوگ زمین پر گر گئے اور وہاں باقاعدہ بھگدڑ مچ گئی۔ صورتحال اس حد تک بے قابو ہو گئی کہ نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے پولیس اور فائر فائٹرز کو فوری طور پر موقع پر بلانا پڑ گیا۔ اس دوران ایک گاہک نے دوسرے لوگوں کو پیچھے دھکیلنے کے لیے پیپر اسپرے (مرچوں والے اسپرے) کا بے دریغ استعمال کیا، جس کی زد میں آ کر ایک 12 سالہ بچے سمیت آٹھ افراد بری طرح متاثر ہو گئے۔
متعدد شہروں میں اسٹورز کی عارضی بندش:
فرانس میں گرمی سے پیدا ہونے والی یہ بے چینی صرف ایک اسٹور تک محدود نہ رہی، بلکہ اسی طرح کے دیگر پرتشدد اور افراتفری سے بھرپور واقعات نانتیغ (Nanterre)، اوبرویلیے (Aubervilliers)، پیرس 19e، لیوالوا-پیغے (Levallois-Perret)، سیوراں (Sevran)، لائی-لے-روز (L’Haÿ-les-Roses) اور ویلنتوں (Valenton) میں بھی رپورٹ ہوئے۔
ان تمام علاقوں سے سامنے آنے والی مختلف ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشتعل اور گرمی کے ستائے ہوئے ہجوم نے زبردستی اسٹورز کے دروازے کھولے، جس کے بعد شہریوں کے درمیان شدید لڑائی جھگڑے ہوئے اور ہجوم کے بے پناہ دباؤ کے باعث انتظامیہ کو مجبورا کئی اسٹورز کو عارضی طور پر بند کرنا پڑ گیا۔




