ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے باوجود عام آدمی کو ریلیف نہ مل سکا، اشیائے خورونوش بالخصوص آٹے اور چاول کے نرخوں میں مسلسل اضافے نے شہریوں کی مشکلات مزید بڑھا دیں۔
مارکیٹ ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق، ہول سیل اور ریٹیل مارکیٹ میں بنیادی غذائی اجناس کی قیمتوں کو پر لگ گئے ہیں۔
آٹے کی قیمت میں بڑا اضافہ:
50 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 400 روپے تک کا یکمشت اضافہ کر دیا گیا ہے۔
چاول بھی مہنگے:
مختلف اقسام کے چاول کی فی کلو قیمت میں 20 سے 30 روپے تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اس اچانک اضافے کے باعث متوسط اور غریب طبقے کا گھریلو بجٹ شدید متاثر ہوا ہے اور روزمرہ کے اخراجات پورے کرنا ایک چیلنج بن گیا ہے۔
شہریوں کا احتجاج اور شکوے:
عوام کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل سستا کیے جانے کے باوجود ٹرانسپورٹرز اور تاجروں نے اس کا فائدہ عام صارف تک نہیں پہنچایا۔
شہریوں کے مطابق روزمرہ استعمال کی اشیاء مسلسل مہنگی ہو رہی ہیں، جس سے حکومتی رٹ اور پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا ہوتا ہے۔
تاجروں اور دکانداروں کا مؤقف:
دوسری جانب، تھوک مارکیٹ کے نمائندوں اور دکانداروں نے اس اضافے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارکیٹ میں سپلائی کی لاگت، کاروباری اخراجات اور عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے قیمتیں بڑھانا ان کی مجبوری بن چکا ہے۔
تاجروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر سپلائی چین کے مسائل حل نہ ہوئے تو آنے والے چند ہفتوں میں آٹا، چاول اور دیگر اشیاء مزید مہنگی ہو سکتی ہیں۔
معاشی ماہرین کی رائے:
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر انتظامی سطح پر اشیائے خورونوش کی قیمتوں کی سخت نگرانی نہ کی گئی، تو مہنگائی کا یہ دباؤ عوام کی قوتِ خرید کو مزید نچوڑ دے گا، جس کے نتیجے میں معاشی اور سماجی مسائل میں مزید شدت آنے کا خدشہ ہے۔



