کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر چوہدری لطیف اکبر کا ردعمل آگیا ،عدالت جانے کا اعلان

اسلام آباد:قائمقام صدر آزاد کشمیر چوہدری لطیف اکبر کا کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر ردعمل سامنے آ گیا ہے اور ریٹرنگ افسر کے فیصلہ کیخلاف اپیل میں جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

چوہدری لطیف اکبر کا کہنا ہے کہ حلقہ ایل اے31کھاوڑہ کے ریٹرننگ آفیسر کا سپیکر/قائمقام صدر کے کاغذات کو مسترد کرنا بے بنیاد اور بد نیتی ہے کیونکہ آئین کے آرٹیکلز 5 میں صدر جسے اسمبلی نے منتخب کیا ہو اور باقاعدہ طور پر حلف لیا ہو جبکہ قائمقام صدر کیلئے علیحدہ آرٹیکل 9 کے تحت کام کرتا ہے اور اس کیلئے حلف ضروری نہیں ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: اپیل بھی مسترد: قائم مقام صدر چوہدری لطیف اکبر الیکشن کے لیے نااہل قرار

چوہدری لطیف اکبر کا کہنا تھا کہ قائمقام صدر کو اسمبلی منتخب نہیں کرتی بلکہ جو بھی اسپیکر ہوگا صدر کا عہدہ خالی ہونے پر اسپیکر ازخود قائمقام صدر کے فرائض انجام دےگا ۔

منتخب صدر ( جس کو اسمبلی منتخب کرتی ہے ) وہ اسمبلی کا رکن نہیں ہو سکتا جبکہ قائمقام صدر ،اسپیکر بھی رہتا ہے اور وہ اسمبلی کا رکن ہوتا ہے اور کوئی شخص جو رکن نہ ہو وہ اسپیکر نہیں بن سکتا جبکہ صدر کیلئے ضروری ہے کہ وہ اسمبلی کارکن نہ ہو

انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے واضح فرق کے باوجود ریٹرننگ آفیسر نے آئین کی غلط تشریح کرتے ہو میرے کاغذ مسترد کئے ہیں جو ہر لحاظ سے غیر آئینی ،غیر قانونی اور قابل پذیرائی نہیں ہیں ۔

قائم مقام صدر کا کہنا ہے کہ الیکشن ایکٹ اور آئین دونوں میں کوالیفیکیشن اور ڈس کوالیفیکیشن میں کوئی شق ایسی نہیں ہے جس سے قائمقام صدر الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتا ،انشااللہ اپیل میں کاغذات نامزدگی بحال ہو جائیں گے ۔

یہ بھی پڑھیں: سابق سیکریٹری حکومت خواجہ محمد احسن نے بطور سینئر ممبر آزاد کشمیر الیکشن کمیشن حلف اٹھا لیا

دوسری جانب چوہدری لطیف اکبر کے پی آر او مراد انجم نے کہا کہ کاغذات نامزدگی پر عائد اعتراض کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

ان کے مطابق لیگل ٹیم ضرورت پڑنے پر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سمیت تمام آئینی و قانونی فورمز سے بھی رجوع کیا جائے گا۔

مراد انجم نے کارکنان سے حوصلہ بلند رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ انتخاب بھرپور انداز میں لڑیں گے اور قانونی و جمہوری طریقے سے اپنا موقف کامیابی سے پیش کریں گے۔