بھارتی مذموم مقاصد بے نقاب، ایکشن کمیٹی انتشار پھیلا رہی ہے، سردارعتیق خان

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) سابق وزیراعظم وصدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے کشمیر ڈیجیٹل کے پروگرام میں سینئر صحافی ابرار حیدر کےساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت شروع دن سے پاکستان کیخلاف سازشوں میں مصروف ہے ۔

سردار عتیق خان کا کہنا تھا کہ حالیہ سالوں میں پاکستان نے بھارت کوعسکری اور سفارتی محاذ پر شکست دی جس کا دشمن کو بہت دکھ ہے اور وہ پاکستان کے اندر پراکسی وار کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کررہا ہے ۔

سردار عتیق خان کا کہنا تھا کہ بیسویں صدی کے ٹاپ کلاس جرنیلوں میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا نام شامل ہے جنہوں نے تیسری عالمی جنگ رکوانے میں اپنا موثر کردار ادا کیا۔اور بھارت کو ناکوں چنے چبوائے، آج ساری دنیا میں پاکستانی فوج کا وقار بلند اور پاکستان کے کردار کو سراہا جارہا ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بھارتی سفارتی کمزوری ،عالمی صورتِحال پاکستان کے حق میں بدل رہی ہے، بھارتی دفاعی ماہر پراوین ساہنی

سردار عتیق خان کا کہنا تھا کہ بھارت عالمی سطح پر شکست کھانے کے بعد گلگت بلتستان اور کشمیر میں انتشار پھیلا کر اپنے مذموم مقاصد میں کامیابی چاہتا ہے لیکن ریاست نے بھارتی سازشوں کو بری طرح بے نقاب کردیا۔

سردار عتیق خان کا کہنا تھا کہ میں خود ریاستی تشخص کا امین ہوں،لیکن میں اکیلا نہیں ہوں، دنیا میں اور بھی لوگ ہیں ان کی بات بھی سننی چاہیے اور ماننی چاہیے ۔ البتہ اظہار رائے کا ایک طریقہ ہے ۔ الیکشن قریب ہے ، جمہوری طریقے سے آئین کا حصہ بنیں اور اس کے مطابق عوامی مسائل حل کیلئے اسمبلی میں پہنچیں ۔

سردار عتیق خان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کا قاتل بھارت کس منہ سے کشمیریوں کی بات کررہا ہے؟ایکشن کمیٹی ڈنڈے افراتفری، بد امنی، تشدد اور پاکستان مخالف ایجنڈے پر یقین رکھتی ہے۔ پونچھ کی دھرتی میں اتنی بڑی آبادی ہے لیکن اگر صبح دیکھیں تو سو ڈیڑھ سو آدمی بھی نہیں ہوتا اور گرائونڈ خالی ہوتا ہے ۔

سردار عتیق خان کا مزید کہنا تھا کہ راولاکوٹ دھرنے میں صبح کے وقت 200تک بھی لوگ جمع نہیں ہوتے ، کالعدم ایکشن کمیٹی کے لوگوں نے مولانا فضل الرحمن، مولانا سعید یوسف کے بارے میں جو غلط زبان استعمال کی وہ ریکارڈ پر ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بظاہر تو یہ عوامی حقوق کی تحریک تھی لیکن یہ آہستہ آہستہ ان کا ایجنڈا سامنے آگیا، ایکشن کمیٹی عوامی حقوق کی آڑ میں ریاست ، ریاستی اداروں، ریاستی آئین سے ٹکرانے کی صورتحال پیدا کردی اور خطے میں انتشار، قتل وغارت کی سی صورتحال پیدا ہوچکی ہے ۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 2023میں ہم نے اپنے سوشل میڈیا پر اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا کہ یہ عوامی حقوق نہیں بلکہ اس کی آڑ میں بھارتی بیانیہ کو فروغ دیا جارہا ہے ۔ الحمدللہ ہم ان کے اس فتنے سے دور رہے جہاں بہت سے لوگوں نے اس انتشاری تحریک کوجوائن کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت اور جنرل بخشی کے ریمارکس سے معلوم ہوتا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی بہت مشکل میں ہے اور بھارت اس کی مدد کرے ۔ بھارت وزارت خارجہ بھی ان کے حق میں بول پڑی ، لیکن بھارت کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس نے ظلم وبربریت کی تاریخ رقم کرتے ہوئے سید علی گیلانی کا جنازہ تک نہیں پڑھنے دیا اور انہیں رات کی تاریکی میں دفنایا گیا ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ چکسوار، دھیرکوٹ،کوہالہ اور چمیاٹی میں جو جانی اور املاک کا تین چار ارب کا جونقصان ہوا اس کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے اور ملوث ملزمان کی جائیدادیں اور بینک بیلنس قرق کرکے قومی خزانے میں جمع کروائی جانی چاہیں۔