فیفا ورلڈ کپ 2026 میں گروپ جی کے ایک انتہائی سنسنی خیز اور اتار چڑھاؤ سے بھرپور مقابلے میں نیوزی لینڈ اور ایران کے درمیان میچ2-2 گول سے برابرہو گیا۔ لاس اینجلس کے صوفی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں دونوں ٹیموں کی جانب سے جارحانہ فٹ بال کا شاندار مظاہرہ کیا گیا، جہاں ایران نے دو بار خسارے میں جانے کے باوجود شاندار کم بیک کیا۔
میچ کا آغاز نیوزی لینڈ کی جانب سے انتہائی جاندار رہا جب مدر ویل کلب کی نمائندگی کرنے والے فارورڈ ایلیا جسٹ نے ٹیم کو فلائنگ اسٹارٹ فراہم کیا۔ کرس ووڈ نے گیند کو بہترین انداز میں روک کر ایلیا جسٹ کی طرف بڑھایا، جنہوں نے گول کر کہ نیوزی لینڈ کو میچ میں برتری دلا دی۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم میچ میں مسلسل بہترین کھیل پیش کر رہی تھی لیکن پہلے ہاف کے وسط میں ملنے والے ہائیڈریشن بریک نے کھیل کا پانسہ پلٹ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ 2026: سویڈن نے تیونس کو پانچ گول سے شکست دیدی
ایران کی پہلی واپسی اور منسوخ شدہ گول:
ہائیڈریشن بریک کے بعد ایران نے کھیل پر گرفت مضبوط کی اور رامین رضائیان نے میکس کروکومبے کو ڈاج دیتے ہوئے گیند کو نیٹ میں ڈال کر اسکور 1-1 سے برابر کر دیا۔ اس گول سے قبل ایران کے اسٹار فارورڈ مہدی تریمی کا ایک شاندار ہٹ پوسٹ سے ٹکرا گیا تھا جس کی وجہ سے وہ گول کرنے میں ناکام رہے تھے۔ اسکور برابر کرنے کے بعد ایران نے ایک اور گول بھی اسکور کیا، تاہم اسے آف سائیڈ قرار دے کر منسوخ کر دیا گیا۔
دوسرے ہاف کا سسپنس اور موہبی کا گول:
دوسرے ہاف میں نیوزی لینڈ کو سنبھلنے میں کچھ وقت لگا، لیکن ایک بار پھر ایلیا جسٹ اور کرس ووڈ کی جوڑی نے جادو دکھایا۔ ایلیا جسٹ نے ووڈ کے تعاون سے گیند کو ایرانی گول کیپر علی رضا بیرانوند کے سر کے اوپر سے گزارتے ہوئے اپنی ٹیم کو ایک بار پھر 2-1 کی برتری دلا دی۔ تاہم، ایران نے ہمت نہ ہاری اور رامبین رضائیان کے بہترین کراس پر محمد موہبی نے ہیڈر کے ذریعے گیند کو پوسٹ کے اندرونی حصے سے ٹکراتے ہوئے جال میں پہنچا کر اسکور 2-2 سے برابر کر دیا۔ میچ کے اختتام تک ایران نے 17 اور نیوزی لینڈ نے 14 شاٹس کھیلے لیکن کوئی بھی ٹیم فیصلہ کن گول نہ کر سکی۔
سیاسی تناؤ کے سائے میں فٹ بال کی جیت:
اس میچ کے انعقاد پر طویل عرصے سے شکوک و شبہات ظاہر کیے جا رہے تھے، کیونکہ میزبان ملک امریکہ اور ایران کے درمیان شدید سیاسی تناؤ برقرار تھا۔ حال ہی میں اتوار کے روز دونوں ممالک کے درمیان دشمنی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاہدہ سامنے آیا، جس کے بعد یہ میچ ممکن ہو سکا۔ ایرانی ٹیم کے بعض اسٹاف ممبران کو امریکی ویزے جاری نہیں کیے گئے تھے، جس کی وجہ سے ٹیم کو ایریزونا کے بجائے میکسیکو میں اپنی تربیت مکمل کرنا پڑی تھی۔ تاہم، میدان میں کھیل شروع ہوتے ہی سیاست پیچھے رہ گئی اور فٹ بال شائقین کو ایک بہترین مقابلہ دیکھنے کو ملا۔
مزید پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ: سوئٹزرلینڈ اور قطر کا میچ 1-1 سے برابر
گروپ جی کی تازہ ترین صورتحال:
ایران اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے گئے اس میچ سے قبل اسی گروپ میں شامل مصر اور بیلجیم کا میچ بھی 1-1 گول سے ڈرا ہوا تھا۔ ان دونوں مقابلوں کے بعد اب گروپ جی کی صورتحال انتہائی دلچسپ ہو گئی ہے، جہاں پہلے میچ کے بعد تمام چاروں ٹیمیں ایک ایک پوائنٹ کے ساتھ بالکل برابر پوزیشن پر آ گئی ہیں۔




