آزاد جموں کشمیر کے صنعتی و تجارتی شہر میرپور میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور انتشار کی کسی بھی ممکنہ کوشش کو ناکام بنانے کے لیے پولیس نے ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کی ہے۔ میرپور پولیس نے انٹیلیجنس معلومات پر کارروائی کرتے ہوئے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے 4 انتہائی سرگرم اراکین کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے بھاری مقدار میں پتھر، ٹوٹی ہوئی کانچ کی خطرناک بوتلیں اور لاٹھیاں (ڈنڈے) برآمد ہوئے ہیں، جو سیکیورٹی فورسز پر حملے کے لیے چھپائے گئے تھے۔
پولیس فورس پر حملے کی منظم پلاننگ ناکام:
پولیس حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے شرپسند عناصر ان تمام اشیا کو آج 9 جون 2026 کو شہر میں شیڈول کردہ احتجاجی مظاہروں اور جلوسوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس اہلکاروں کے خلاف باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ٹوٹی ہوئی کانچ کی بوتلوں اور بھاری پتھروں کا اس مقدار میں استعمال پولیس فورس کے لیے شدید جانی نقصان کا باعث بن سکتا تھا، جسے وقت پر کارروائی کر کے روک دیا گیا ہے۔ ملزمان کو نامعلوم مقام پر منتقل کر کے ان کے خلاف دہشتگردی اور امن عامہ کے مروجہ قوانین کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فتنہ الخوارج، بھارت اور کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا گٹھ جوڑ بے نقاب، ہوشربا انکشافات منظرعام پر
کشیدگی کا پسِ منظر اور تنظیمی صورتحال:
واضح رہے کہ یہ گرفتاریاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب آزاد جموں کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی اور انتظامیہ کے درمیان سستے آٹے اور بجلی کے بلوں پر ٹیکسوں کی کٹوتی کے مطالبات پر جاری تناؤ سنگین رخ اختیار کر چکا ہے۔ حکومت کی جانب سے تنظیم کی پُرتشدد سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے اسے ‘کالعدم‘ قرار دیا جا چکا ہے۔ ابھی حال ہی میں میرپور کے ایک اور سرگرم رہنما احسان شبیر شانی نے بھی تنظیم کی انہی پُرتشدد کارروائیوں اور قیادت کے انتشار پسند رویے سے تنگ آ کر باقاعدہ بیانِ حلفی کے ذریعے لا تعلقی کا اعلان کیا تھا۔
ماضی میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران یہ دیکھا گیا ہے کہ شرپسند عناصر نے پتھراؤ اور پیٹرول بموں (جو کانچ کی بوتلوں سے بنائے جاتے ہیں) کا استعمال کر کے کئی پولیس اہلکاروں کو شدید زخمی کیا اور سرکاری املاک کو نذرِ آتش کیا۔ آج 9 جون کو ہونے والے احتجاج کے پیشِ نظر میرپور پولیس ہائی الرٹ پر تھی اور یہ حالیہ کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ پولیس اب کسی بھی پُرتشدد احتجاج کو پنپنے سے پہلے ہی کچلنے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔
پُرتشدد احتجاج کی حکمتِ عملی کا بے نقاب ہونا:
ٹوٹی ہوئی کانچ کی بوتلوں اور پتھروں کا ملنا یہ ثابت کرتا ہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے کچھ دھڑے پرامن احتجاج کے بجائے گوریلا طرز کی تخریب کاری کی تیاری کر رہے تھے۔ کانچ کی بوتلیں عام طور پر پیٹرول بم بنانے یا قریبی جھڑپوں میں پولیس کی حفاظتی شیلڈز کو توڑنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
ان اشیا کی برآمدگی سے کالعدم تنظیم کے ان دعوؤں کو شدید دھچکا پہنچے گا جن میں وہ خود کو ‘پرامن عوامی تحریک’ قرار دیتے ہیں۔ احسان شبیر شانی کے حالیہ استعفے اور اب اس بڑی برآمدگی کے بعد عام شہری بھی ان مظاہروں سے دور رہنے کو ترجیح دیں گے، جس سے تحریک کمزور ہوگی۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کا حوصلہ:
پچھلے معرکوں میں پولیس کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا، جس سے فورس کے مورال پر اثر پڑا۔ اس کامیاب سیکیورٹی آپریشن اور بروقت گرفتاریوں سے میرپور پولیس کے جوانوں کا عزم مزید مضبوط ہوگا کہ انتظامیہ اب کسی بھی شرپسند کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے گی۔





