کشمیری یوتھ لیڈرکامہاجرین کی نشستوں کے معاملے پرکالعدم ایکشن کمیٹی سے شکوہ

مظفرآباد :کشمیری یوتھ لیڈر ارتضا محمود نے ایک اہم بیانیہ جاری کرتے ہوئے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حالیہ حکمت عملی اور مہاجرین کی نشستوں کے تنازع پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایکشن کمیٹی سے ایک شکوہ ہے، مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ اتنا سنگین نہیں تھا کہ آپ اس پر ایک بند گلی میں جا کھڑے ہوں۔ آزاد کشمیر کی طرز حکمرانی کے مسائل پر عوام نے آپ کا مکمل ساتھ دیا اور وفاقی حکومت نے بھی اسے تسلیم کیا اور آزادکشمیر کی اشرافیہ کے مرات اور طرز حکمرانی پر سیاسی لیڈروں کے موقف کو سبکی ملی۔

ارتضا محمود نے معاملے کی حساسیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ چونکہ آئینی نوعیت کا مسئلہ ہے اور کسی نا کسی شکل میں مسئلہ کشمیر سے جڑا ہے، اس لیے درمیانی راہ بخوبی نکالی جا سکتی تھی اور ابھی بھی نکالی جا سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ مسئلہ اتنا بڑا نہیں کہ اس کی بھینٹ عام شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی جان چڑھ جائے، افسوس کہ اس معاملے پر حد سے زیادہ ردعمل دیا، جس کا نقصان آخرکار سب کو اٹھانا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں: کور ممبر سید فیصل گیلانی کا کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے علیحدگی کا باقاعدہ اعلان

حالیہ کشیدگی کو کم کرنے پر زور دیتے ہوئے کشمیری یوتھ لیڈر نے کہا کہ ابھی بھی وقت ہے، ہماری دعا ہے اور عوام سے دلی اپیل ہے کہ وہ پرامن رہیں۔۔

اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے ڈیجیٹل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں سے بھی گزارش ہے کہ جلتی پر تیل چھڑکنے کے بجائے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، ایک افواہ، ایک اشتعال انگیز پوسٹ بھی کسی کی جان لے سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: احسان شبیر شانی کا کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے علیحدگی کا باقاعدہ اعلان