دورہ چین عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز، الجزیرہ نے وزیراعظم شہباز شریف کو ”ہائی پروفائل لیڈر“ قرار دے دیا

مشرقِ وسطیٰ اور بین الاقوامی محاذ پر جاری سنگین اسٹرٹیجک تبدیلیاں پاکستان کو عالمی سفارت کاری کے مرکز میں لے آئی ہیں، جس کا اعتراف اب بین الاقوامی میڈیا بھی کھلے الفاظ میں کر رہا ہے۔ عرب دنیا کے ممتاز اور معتبر ترین نیوز چینل ’الجزیرہ‘ نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں پاکستان کے وزیراعظم میاں شہباز شریف کو بین الاقوامی سطح کا ایک ’ہائی پروفائل لیڈر‘ قرار دے دیا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے حالیہ دورہ بیجنگ کے بعد اب چین ایک اور ہائی پروفائل عالمی رہنما یعنی پاکستانی وزیراعظم میاں شہباز شریف کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔

ایران جنگ، آبنائے ہرمز کا بحران اور پاکستان کا ثالثی کردار:

رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ بیجنگ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جہاں وہ چینی قیادت سے ملاقات کریں گے۔ توقع ہے کہ اس اہم ترین ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین اسٹریٹجک اور اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کرنے پر توجہ دی جائے گی، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب ایران کی جنگ کے خاتمے کے لیے پسِ پردہ سفارتی کوششیں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔

چین اپنی معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے مشرقِ وسطیٰ سے بڑی مقدار میں تیل اور گیس درآمد کرتا ہے، جس کا زیادہ تر حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ چونکہ ایران میں جاری جنگ کی وجہ سے توانائی کے اس بین الاقوامی بہاؤ میں شدید خلل پڑ رہا ہے، اس لیے بیجنگ اپنے توانائی اور تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے خطے میں قابلِ اعتماد اور اثر و رسوخ رکھنے والے شراکت داروں کی تلاش میں ہے، اور پاکستان اس وقت چین کے لیے سب سے اہم ملک بن کر ابھرا ہے۔

عرب ٹی وی کا کہنا ہے کہ پاکستان جغرافیائی طور پر ایران کے ساتھ ایک طویل اور فعال سرحد رکھتا ہے، جبکہ دوسری طرف اس کے خلیجی ممالک اور امریکہ کے ساتھ بھی انتہائی قریبی اور دیرینہ تعلقات ہیں۔ حالیہ مہینوں میں پاکستان نے خود کو ایک مضبوط اور مرکزی ثالث کے طور پر پیش کیا ہے، جبکہ چین اور پاکستان نے مشترکہ طور پر فوری جنگ بندی اور کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ بھی دہرایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف چار روزہ سرکاری دورے پر چین روانہ

عالمی طاقتوں کا پریڈ میں اکٹھ اور لازوال دوستی:

الجزیرہ کی رپورٹ میں یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اس سے قبل ستمبر میں چین کے دورے پر تھے، جب انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے ہمراہ چین کی تاریخی فوجی پریڈ میں خصوصی طور پر شرکت کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق بیجنگ اور اسلام آباد روایتی طور پر ایک دوسرے کو ’ہر موسم کا دوست‘ (آل ویدر فرینڈ) کہتے ہیں، لیکن حالیہ علاقائی تنازعات اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے اس شراکت داری کو اسٹریٹجک طور پر اور بھی زیادہ اہم اور ناگزیر بنا دیا ہے۔

جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن اور بھارت کا فیکٹر:

واضح رہے کہ پاکستان بیجنگ کے لیے اپنے روایتی حریف بھارت کی وجہ سے بھی اسٹریٹجک طور پر انتہائی قیمتی ہے۔ چین اور بھارت اس خطے میں سرحدی تنازعات، فوجی اثر و رسوخ اور علاقائی طاقت کے حصول میں ایک دوسرے کے کٹر حریف ہیں، ایسے میں اسلام آباد کے ساتھ مضبوط اور مستحکم تعلقات بیجنگ کو جنوبی ایشیا میں ایک بہترین توازن برقرار رکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق دونوں ممالک کے مابین دفاعی برآمدات بھی اس دورے کے ایجنڈے کا لازمی حصہ ہو سکتی ہیں۔ بیجنگ نے ماضی میں اسلام آباد کو جدید ترین میزائل سسٹمز، آبدوزیں اور لڑاکا طیارے فروخت کیے ہیں، جو گزشتہ سال بھارت کے ساتھ ہونے والی فوجی جھڑپ میں پاکستان کی جانب سے کامیابی سے استعمال کیے گئے تھے۔ ان تمام حقائق سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ چین اس وقت پاکستان کو اپنے عالمی اور علاقائی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک کلیدی کردار ادا کرنے والا ملک سمجھتا ہے، چاہے وہ توانائی کی سلامتی کا معاملہ ہو، ایران کا بحران ہو، یا خطے میں بھارت کے اثر و رسوخ کو روکنے کا عمل ہو۔

دورے کے دوران چینی صدر اور وزیراعظم شہباز شریف کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری کو وسعت دینے پر بھی تفصیلی بات چیت ہوگی، کیونکہ پاکستان اس وقت اپنی معاشی صورتحال کو مستحکم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اس کے ساتھ ہی سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر بھی غور کیا جائے گا اور بیجنگ ممکنہ طور پر پاکستان میں جاری مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے چینی شہریوں کے تحفظ میں مزید افزائش کا مطالبہ کرے گا۔

مشرقِ وسطیٰ کا بحران اور پاک چین دفاعی شراکت داری:

پاکستان اور چین کے تعلقات کی بنیادیں انتہائی گہری ہیں، لیکن حالیہ دورِ حکومت میں اقتصادی راہداری (سی-پیک) اور دفاعی تعاون نے اسے ایک نئی جیوپولیٹیکل جہت دی ہے۔ گزشتہ سال بھارت کے ساتھ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر ہونے والی فضائی و زمینی جھڑپوں کے دوران چین کے فراہم کردہ جے ایف-17 تھنڈر طیاروں اور دیگر دفاعی سسٹمز نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، جس نے بھارت کو پسپائی پر مجبور کیا۔

دوسری جانب، فروری سے ایران میں شروع ہونے والی جنگ نے آبنائے ہرمز کو غیر محفوظ کر دیا ہے، جہاں سے چین کی 60 فیصد سے زیادہ تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔ چین کے لیے گوادر بندرگاہ اب محض ایک تجارتی بندرگاہ نہیں رہی، بلکہ یہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران کی صورت میں چینی سپلائی لائن کے لیے ایک متبادل اور محفوظ ترین اسٹریٹجک لائف لائن بن چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیجنگ ٹرمپ اور پیوٹن جیسی عالمی طاقتوں کے سربراہان سے ملاقاتوں کے فوری بعد پاکستانی قیادت کو بیجنگ بلوا رہا ہے تاکہ خطے کے مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔

دورہ بیجنگ کے اسٹرٹیجک اور معاشی پہلو:

الجزیرہ کی اس خصوصی رپورٹ اور وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین کا اگر گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو درج ذیل اہم نکات سامنے آتے ہیں:

بین الاقوامی سفارتی قد کاٹھ میں اضافہ: چین کی جانب سے امریکی اور روسی صدور کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی میزبانی کرنا اور الجزیرہ کا انہیں ’ہائی پروفائل بین الاقوامی لیڈر‘ لکھنا یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان اب عالمی سطح پر بڑا مقام حاصل کر چکا ہے۔ ایران، امریکا اور خلیجی ممالک کے مابین پاکستان کا حالیہ ثالثی کردار اسے عالمی طاقتوں کی ضرورت بنا رہا ہے۔

بھارت کے خلاف اسٹریٹجک دباؤ: جنوبی ایشیا میں بھارت کی اجارہ داری کو روکنے کے لیے چین اور پاکستان کا اتحاد ہمیشہ سے اہم رہا ہے۔ گزشتہ سال کی پاک بھارت جھڑپوں کے بعد چین کی جانب سے پاکستان کو مزید جدید ترین آبدوزیں اور میزائل ٹیکنالوجی کی فراہمی کا امکان ہے، جو خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال: پائیدار دوستی کی شاندار مثال بن گئے: صدر، وزیراعظم