گرتی ہوئی آبادی کو روکنے کا انوکھا منصوبہ، تیسرے اور چوتھے بچے کی پیدائش پر ہزاروں روپے انعام کا اعلان

بھارتی ریاست آندھرا پردیش کی حکومت نے ریاست میں آبادی کی مسلسل گرتی ہوئی شرح کو روکنے کے لیے ایک منفرد اور بڑا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے اب تیسرے اور چوتھے بچے کی پیدائش پر والدین کو بھاری انعامی رقم دینے کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی طرف راغب کیا جا سکے۔

انڈین میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، وزیر اعلیٰ آندھرا پردیش این چندرابابو نائیڈو نے ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اس نئی اسکیم کا اعلان کیا۔ انہوں نے شرکاء سے خطاب میں کہا کہ اب وہ وقت آ پہنچا ہے کہ پورا معاشرہ شرح پیدائش کو بڑھانے کے لیے مل کر کام کرے، جبکہ حکومت اس اسکیم کے حوالے سے مزید تفصیلی پالیسی کا اعلان ایک ماہ کے اندر کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے تحریک انصاف کی رجسٹریشن بلاجواز مسترد کردی، بیرسٹر گوہر خان کا الزام

وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے اپنے نئے فیصلے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ تیسرے بچے کی پیدائش پر والدین کو 30 ہزار روپے جبکہ چوتھے بچے کے جنم پر 40 ہزار روپے کی مالی رقم دی جائے گی۔ انہوں نے جلسے کے شرکاء سے سوال بھی کیا کہ کیا حکومت کا یہ فیصلہ بالکل صحیح اور درست نہیں ہے؟

یہ نیا اعلان حکومت کی اس پرانی تجویز کے بعد سامنے آیا ہے جس میں دوسرے بچے کی پیدائش پر 25 ہزار روپے دینے پر غور کیا جا رہا تھا۔ اس سے قبل 5 مارچ 2026 کو وزیر اعلیٰ نے اسمبلی کو آگاہ کیا تھا کہ حکومت دوسرے بچے پر انعام دینے کا سوچ رہی ہے، تاہم بعد میں ریاستی وزیر صحت ستیا کمار یادو نے واضح کیا کہ حکومت نے اب اس کا دائرہ کار بڑھا کر تیسرے اور اس سے زیادہ بچے پیدا کرنے والے خاندانوں تک وسیع کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ذوالحجہ کا چاند دیکھنےکیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا

این چندرابابو نائیڈو کا کہنا تھا کہ لوگوں کی آمدنی میں اضافے کے ساتھ اب کچھ جوڑے صرف ایک ہی بچہ پیدا کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ دیگر خاندان دوسرا بچہ صرف اس صورت میں پیدا کرتے ہیں جب ان کی پہلی اولاد لڑکا نہ ہو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ریاست میں آبادی بڑھنے کی شرح خطرناک حد تک کم ہو رہی ہے، جبکہ آبادی صرف اسی صورت میں مستحکم رہ سکتی ہے جب فی عورت اوسط شرح پیدائش 2.1 بچے ہو۔