اسلام آباد میں ہائی پاور کمیٹی کا اہم اجلاس، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندے بھی شریک

اسلام آباد: جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومتِ پاکستان کی قائم کردہ ہائی پاور کمیٹی کا اہم اجلاس کچھ دیر بعد اسلام آباد میں شروع ہوگا۔ اجلاس میں مختلف امور پر مشاورت کی جائے گی۔

ہائی پاور کمیٹی کے آج اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اجلاس میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی نمائندگی کور ممبرز راجہ امجد علی خان ایڈووکیٹ، سردار ارباب ایڈووکیٹ اور سعد انصاری ایڈووکیٹ کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں میں عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی حکومت کے درمیان مذاکرات کے بعد وفاقی وزیر اُمور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام کے مسائل حل طلب ہیں، تاہم حکومت ان مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی استحکام اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کے فروغ کیلئے وفاقی حکومت ہر ممکن مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اب لاشیں نہیں نظام بدلنے کا فیصلہ کن مرحلہ ہوگا،عوامی ایکشن کمیٹی کااعلان

انہوں نے کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ میں سے 37 نکات پر یا تو مکمل عملدرآمد ہو چکا ہے یا ان پر عملی پیش رفت جاری ہے، جبکہ صرف ایک نکتہ مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستوں سے متعلق ہے جو آئینی نوعیت کا معاملہ ہونے کے باعث آئینی کمیٹی میں زیر غور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ تمام معاملات احتجاج، کشیدگی اور تصادم کے بجائے مذاکرات، افہام و تفہیم اور آئینی راستے کے ذریعے حل کیے جائیں۔

چیف سیکرٹری آفس مظفرآباد میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومتی مذاکراتی ٹیم کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات کے بعد پی آئی ڈی کمپلیکس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات خوشگوار، مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئے، جہاں دونوں فریقین نے کھل کر اپنا مؤقف پیش کیا۔ اس موقع پر آزاد کشمیر کے وزراء دیوان علی چغتائی اور چودھری قاسم مجید بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندوں شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری اور امتیاز اسلم کے ساتھ تفصیلی گفتگو میں حکومت نے انہیں 9 جون کی مجوزہ ہڑتال کی کال واپس لینے اور 14 مئی کو اسلام آباد میں ہونے والے آئینی کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہونے کی دعوت دی ہے تاکہ وہ اپنا مؤقف براہ راست آئینی فورم پر پیش کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ آئینی کمیٹی ہی یہ فیصلہ کرے گی کہ مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستوں کے برقرار رہنے یا ختم ہونے سے ریاست، مہاجرین اور سیاسی نظام پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مؤقف واضح ہے کہ کسی بھی حساس اور آئینی مسئلے کا حل سڑکوں کے بجائے مذاکراتی میز پر تلاش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے مذاکرات میں مثبت ردعمل دیا ہے اور توقع ہے کہ وہ ریاستی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے آئینی عمل کا حصہ بنے گی۔

امیر مقام نے کہا کہ اس وقت پاکستان عالمی سطح پر اہم سفارتی اور دفاعی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی قیادت نے بصیرت، تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ پاکستان امن، استحکام اور مذاکرات پر یقین رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد، سیاسی ہم آہنگی اور داخلی استحکام کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے، اس لیے ایسے ماحول میں احتجاجی فضا پیدا کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

وفاقی وزیر اُمور کشمیر نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان آزاد کشمیر کے معاملات کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں اور خواہش ہے کہ تمام مسائل باہمی اعتماد اور گفت و شنید کے ذریعے حل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر ایک حساس خطہ ہے اور یہاں سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد نہ صرف ریاست بلکہ پورے پاکستان کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے ہیں اور آئندہ بھی بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

اس موقع پر آزاد کشمیر حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن دیوان علی چغتائی نے کہا کہ وفاقی وزیر اُمور کشمیر کا خود مظفرآباد آ کر مذاکرات میں شرکت کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت معاملات کے حل کیلئے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور ایکشن کمیٹی کے نمائندوں نے بھی ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ دنوں میں مزید پیش رفت سامنے آئے گی اور معاملات خوش اسلوبی سے حل ہو جائیں گے۔

حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن چوہدری قاسم مجید نے کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر ایک نکتے کے علاوہ تمام مطالبات پر عملدرآمد ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باقی معاملہ آئینی نوعیت کا ہے اور وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ اس حوالے سے ایکشن کمیٹی آئینی کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہو کر اپنے دلائل پیش کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ بائیکاٹ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ آئینی فورمز پر مؤثر انداز میں بات کرنا ہی جمہوری راستہ ہے۔

چوہدری قاسم مجید نے کہا کہ آزاد کشمیر میں سیاسی تبدیلیوں کے بعد ماحول میں بہتری آئی ہے اور حکومت عوامی مسائل کے حل کیلئے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ علاقے جہاں ماضی میں حکومتی نمائندوں کو شدید عوامی ردعمل کا سامنا تھا، آج وہاں وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور کا پرتپاک استقبال کیا جا رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام حکومت کے اقدامات کو سراہا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان فاصلے پیدا کرنے سے صرف دشمن قوتوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ پاکستان اس وقت قومی اتحاد، دفاعی استحکام اور عوامی یکجہتی کی علامت بن چکا ہے۔ “معرکہ حق، آپریشن بنیان مرصوص” کی کامیابی کا ایک سال مکمل ہونے پر پورے ملک میں قومی جذبے اور ولولے کا اظہار کیا گیا، جس نے دشمن کو واضح پیغام دیا کہ پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج اور ریاستی اداروں کے ساتھ متحد کھڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام ہمیشہ پاکستان کے استحکام، سلامتی اور نظریاتی سرحدوں کے محافظ رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت بھی ریاستی عوام کے مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی حکومتی تجاویز کا مثبت جواب دے گی، 9 جون کی ہڑتال کی کال پر نظرثانی کرے گی اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے ریاست کی تعمیر و ترقی، سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی میں اپنا مؤثر کردار ادا کرے گی۔

Scroll to Top