مظفرآباد: پلاسٹک بیگز کا بے دریغ استعمال، یومیہ 5 ٹن کچرا ماحول تباہ کرنے لگا

آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں پلاسٹک بیگز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے شہر کے قدرتی حسن اور ماحولیاتی توازن کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ انتظامی پابندیوں کے باوجود پلاسٹک کا استعمال جاری ہے، جو اب ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، مظفرآباد شہر میں روزانہ کی بنیاد پر 4 سے 5 ٹن پلاسٹک ویسٹ پیدا ہو رہا ہے۔ اگر ایک عام پلاسٹک بیگ کے وزن کا تخمینہ 5 سے 10 گرام لگایا جائے، تو اس حساب سے روزانہ لاکھوں کی تعداد میں بیگز استعمال کے بعد کچرے کا حصہ بن رہے ہیں۔ یہ بیگز ٹھکانے لگانے کے مناسب نظام کی عدم موجودگی کے باعث ندی نالوں، دریاؤں، سڑکوں اور رہائشی علاقوں میں جمع ہو کر آلودگی پھیلا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر میں شدید طغیانی، گلگت بلتستان میں گلیشئر پھٹنے کا امکان،24گھنٹے اہم قرار

مظفرآباد اپنے سرسبز پہاڑوں اور دریائے نیلم و جہلم کے سنگم کی وجہ سے سیاحوں کے لیے ہمیشہ سے کشش کا باعث رہا ہے۔ تاہم، پلاسٹک آلودگی نے اس خوبصورتی کو گہنا دیا ہے۔ سیاحتی مقامات، پکنک پوائنٹس اور دریا کے کناروں پر پلاسٹک بیگز اور کچرے کے ڈھیر نظر آتے ہیں، جو نہ صرف ماحول کو آلودہ کر رہے ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر شہر کی مثبت شناخت کو بھی بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ مظفرآباد کا اعتراف ہے کہ پلاسٹک بیگز پر کئی بار پابندی عائد کی گئی، لیکن اس پر مؤثر عملدرآمد نہیں کروایا جا سکا۔ کمزور نگرانی اور عملدرآمد کے طریقہ کار میں خامیوں کے باعث یہ احکامات محض کاغذی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہر بھر کی مارکیٹوں اور دکانوں میں ان بیگز کا بے دریغ استعمال بدستور جاری ہے اور کوئی بھی قانون کا خوف محسوس نہیں کر رہا۔

مزید پڑھیں: ایران جنگ میں امریکا کے 39 طیارے تباہ ہوئے،امریکی رکن کانگریس کا اعتراف

بلدیہ حکام کے مطابق، پلاسٹک بیگز شہر کے نکاسی آب کے نظام کو بلاک کر رہے ہیں، جس سے سیوریج کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب، ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (EPA) آزاد کشمیر نے خبردار کیا ہے کہ یہ آلودگی زمین کی زرخیزی کو ختم کر رہی ہے اور آبی حیات کے لیے بھی شدید خطرہ بن چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر سخت قانون سازی، متبادل بیگز کا فروغ اور عوامی شعور بیدار نہ کیا گیا تو مظفرآباد کی سیاحتی اور ماحولیاتی اہمیت مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔

Scroll to Top