آسٹریلیا کے مایہ ناز ٹینس اسٹار اور یو ایس اوپن کے سابق چیمپئن مال اینڈرسن 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں، جس سے ٹینس کی دنیا کا ایک سنہرا باب ختم ہو گیا ہے۔
مال اینڈرسن نے ٹینس کی تاریخ میں اس وقت تہلکہ مچا دیا تھا جب وہ 1957 میں یو ایس اوپن مینز سنگلز ٹائٹل جیتنے والے پہلے ‘اَن سیڈڈ’ کھلاڑی بنے۔ ان کا ٹینس کیریئر انتہائی محدود وسائل اور سہولتوں کی کمی کے باوجود شروع ہوا، لیکن انہوں نے اپنی محنت کے بل بوتے پر نہ صرف یو ایس کراؤن جیتا بلکہ تین بڑے ڈبلز ٹائٹل بھی اپنے نام کیے۔ اس کے علاوہ وہ دو مرتبہ ڈیوس کپ جیتنے والی آسٹریلوی ٹیم کا بھی اہم حصہ رہے۔ ان کی انہی خدمات کی بدولت انہیں آسٹریلیا کے عظیم ترین ٹینس لیجنڈز میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر انڈر 23 فٹ بال چیمپئن شپ کا آغاز،ہاکی ٹورنامنٹ کا بھی اعلان
ٹینس کورٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد مال اینڈرسن نے خود کو نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت کے لیے وقف کر دیا تھا۔ انہوں نے پیٹ رافٹر جیسے نامور کھلاڑیوں کی سرپرستی کی، جو بعد میں عالمی نمبر ون کے درجے تک پہنچے۔ ان کی رہنمائی میں کئی آسٹریلوی کھلاڑیوں نے بین الاقوامی سطح پر اپنی پہچان بنائی۔ ٹینس آسٹریلیا نے ان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسے کھلاڑی کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے جنہوں نے کورٹ میں فتوحات کے ساتھ ساتھ نئی نسل کی بھرپور حوصلہ افزائی بھی کی۔
مال اینڈرسن کے انتقال پر دنیا بھر سے ٹینس کے بڑے نام انہیں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ سابق عالمی نمبر ون پیٹ رافٹر نے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مال اینڈرسن نہ صرف ایک حقیقی ٹینس لیجنڈ تھے بلکہ وہ ایک بہترین انسان بھی تھے، جو نوجوان کھلاڑیوں کی مدد کر کے خوشی محسوس کرتے تھے۔ ان کی وفات کو ٹینس کی دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے اور یو ایس اوپن چیمپئن کی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔




