برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر، جو ملک میں سیاسی استحکام اور نظم و ضبط کی واپسی کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے، اس وقت اپنی سیاسی زندگی کے مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں۔ متعدد پالیسیوں پر یوٹرنز، مالیاتی تنازعات اور عوامی مقبولیت میں تاریخی کمی کے باعث اب خود ان کی اپنی جماعت کے اندر سے مستعفی ہونے کے مطالبات زور پکڑنے لگے ہیں۔
5 جولائی 2024 کو جب کیئر سٹارمر نے وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا، تو انہوں نے 14 سالہ کنزرویٹو دور کے بعد ایک ایسی حکومت کا وعدہ کیا تھا جو عوامی زندگی میں کم مداخلت کرے گی اور ’خدمت‘ کے جذبے سے کام کرے گی۔ انہوں نے خود کو بورس جانسن اور لیز ٹروس جیسے وزرائے اعظم کے مقابلے میں ایک عملی اور سنجیدہ منتظم کے طور پر پیش کیا، لیکن ڈاؤننگ سٹریٹ میں داخل ہونے کے بعد وہ عوام میں وہ اعتماد پیدا کرنے میں ناکام رہے جس کا انہوں نے دعویٰ کیا تھا۔ صحافی پیٹرک میگوائر اور گیبریل پروگرنڈ کی کتاب “Get In” کے مطابق، سٹارمر کا ماننا تھا کہ ان کی کوئی مخصوص نظریاتی چھاپ یا ‘سٹارمر ازم’ نہیں ہے، مگر یہی کرشمے اور واضح سمت کی کمی اب ان کے لیے سیاسی بوجھ بنتی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کیخلاف لیبر پارٹی میں بغاوت،شبانہ محمود نے بھی مشورہ دیدیا
پالیسی یوٹرنز اور عوامی غم و غصہ:
کیئر سٹارمر کی وزارتِ عظمیٰ کا آغاز اس وقت تنازعات کا شکار ہوا جب حکومت نے لاکھوں بزرگ شہریوں سے موسمِ سرما کے ایندھن کی ادائیگیاں واپس لینے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ لیبر پارٹی کے انتخابی منشور کا حصہ نہیں تھا اور شدید عوامی دباؤ کے بعد حکومت کو اس سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ اس کے علاوہ، کسانوں کے ساتھ وراثتی ٹیکس کے معاملے پر پسپائی، فلاحی مراعات میں اصلاحات پر یوٹرن اور کاروباری طبقے کی جانب سے ٹیکسوں میں اضافے پر ناراضگی نے حکومت کی ساکھ کو شدید متاثر کیا۔ ابتدائی مہینوں میں حکومتی اراکین کی جانب سے ‘مفت تحائف’ لینے کے اسکینڈل نے بھی اسٹارمر کی شفافیت کے دعوؤں پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے۔
سفارتی تنازعات اور مستعفی ہونے کے مطالبات:
حالیہ دنوں میں واشنگٹن میں برطانوی سفیر پیٹر منڈلسن کی برطرفی نے حکومت کے لیے نئی مشکلات کھڑی کر دیں۔ منڈلسن کی امریکی جنسی مجرم جیفری اپسٹین سے دوستی کے انکشاف کے بعد اسٹارمر کو نہ صرف معافی مانگنی پڑی بلکہ ان کے دو قریبی معاونین اور دفترِ خارجہ کے سینئر افسر کو بھی عہدے چھوڑنے پڑے۔ مقامی انتخابات میں لیبر پارٹی کی شرمناک کارکردگی نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے، جس کے بعد پارٹی کے 400 اراکینِ پارلیمنٹ میں سے کئی نے اب کھل کر ان کی قیادت کو چیلنج کرنا شروع کر دیا ہے۔
مستقبل کی غیر یقینی صورتحال:
عالمی سطح پر یوکرین کی حمایت اور ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ایران جنگ پر سخت موقف کی وجہ سے اگرچہ انہیں سراہا گیا، لیکن اندرونِ ملک صورتحال اس کے برعکس ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق، اسٹارمر کی مقبولیت گر کر صرف 19 فیصد رہ گئی ہے، جو کسی بھی برطانوی وزیرِ اعظم کے لیے کم ترین سطح ہے۔ دوسری جانب سخت دائیں بازو کی ‘ریفارم پارٹی’ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت لیبر کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ پیر کے روز اپنے خطاب میں کیئر سٹارمر نے واضح کیا کہ وہ قیادت نہیں چھوڑیں گے اور وہ برطانیہ کی ’روح کی جنگ‘ لڑ رہے ہیں، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی سیاسی بقا کی یہ جنگ اب ایک نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔




