‘ہمیں بھیڑ بکریوں کی طرح بسوں میں لاد دیا جاتا ہے’، ویمن یونیورسٹی کی طالبات پھٹ پڑیں

باغ (کشمیر ڈیجیٹل):ویمن یونیورسٹی باغ کی طالبات نے ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافے اور انتظامیہ کے رویے کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے یونیورسٹی کے باہر نعرے بازی کی۔ طالبات کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مختصر فاصلے کے لیے بھاری کرایہ وصول کیا جا رہا ہے اور اب مزید اضافہ ناقابلِ قبول ہے۔

طالبات کے مطابق باغ شہر سے یونیورسٹی تک کا فاصلہ محض چار کلومیٹر ہے، جس کے لیے اب تک پانچ ہزار روپے ماہانہ کرایہ وصول کیا جاتا رہا ہے۔ اب اس میں مزید اضافے کی اطلاعات نے طالبات میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ مالی بوجھ ان کے خاندانوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے، جبکہ سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد: عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی وزراء کے مابین مذاکرات کا اہم دور شروع

نمبرز کاٹنے کی دھمکیاں اور انتظامیہ کا رویہ:

احتجاج کے دوران طالبات نے یونیورسٹی اساتذہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے پر دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ طالبات کا موقف ہے کہ “ٹیچرز ہمیں کہہ رہے ہیں کہ احتجاج کرنے پر امتحانات میں نمبرز کاٹ لیے جائیں گے”۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھانا جرم ہے؟

ٹرانسپورٹ کی ابتر صورتحال:

طالبات نے ٹرانسپورٹ کے نظام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بسوں میں “بھیڑ بکریوں” کی طرح لاد کر لے جایا جاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹرانسپورٹ سہولیات کو انسانی وقار کے مطابق بنایا جائے، کرایوں میں فوری کمی کی جائے اور طالبات کے ساتھ امتیازی و غیر انسانی رویہ بند کیا جائے۔

مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر کرایوں میں اضافہ واپس نہ لیا گیا اور مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:آزاد کشمیر:انتخابی فہرستوں کی درستگی کا جائزہ: مئی کے وسط میں الیکشن شیڈول جاری کرنے کا اعلان

Scroll to Top