مظفرآباد:سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (ڈی ای او) نسواں جہلم ویلی کے تبادلے کے خلاف جاری حکم امتناعی کنفرم کر دیا ہے۔ عدالت نے مقدمے کی ابتدائی سماعت کے بعد فریقین سے تحریری بحث طلب کر لی ہے۔
محترمہ صائمہ نزیر کی جانب سے دائر پی ایل اے (PLA) پر سماعت سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس رضا علی خان نے کی۔ درخواست گزار کی طرف سے نامور قانون دان ثاقب احمد عباسی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت عظمیٰ نے لیو گرانٹ کی منظوری دیتے ہوئے حکم امتناعی کو تاتصفیہ مقدمہ برقرار رکھنے کا حکم صادر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا نکاح نامہ میں بڑی تبدیلیوں کا حکم دیدیا
واضح رہے کہ حکومت نے محترمہ صائمہ نزیر کو ڈی ای او نسواں جہلم ویلی کے عہدے سے تبدیل کر کے ڈپٹی ڈائریکٹر تعینات کیا تھا، جبکہ ان کی جگہ محترمہ کوثر شفیع کو ڈی ای او نسواں جہلم ویلی لگایا گیا تھا۔ اس تبادلے کے خلاف صائمہ نزیر نے سروس ٹربیونل سے رجوع کیا تھا، تاہم وہاں سے اپیل خارج ہونے کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ میں پی ایل اے دائر کی تھی۔
آج سپریم کورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد کیس کی باقاعدہ سماعت کے لیے لیو گرانٹ کر دی اور حکم امتناعی کی توثیق کرتے ہوئے مقدمے کے حتمی فیصلے تک تبادلے پر روک لگا دی ہے۔ عدالت نے اب فریقین سے تحریری بحث طلب کر لی ہے جس کے بعد کیس کی مزید سماعت ہوگی۔




