معرکہ حق “بنیانِ مرصوص” کی پہلی سالگرہ: آزاد کشمیر میں یومِ تجدیدِ وفا اور جشنِ فتح کی پروقار تقریبات

(تحریر: محمد شبیر اعوان)آزاد کشمیر میں معرکہ حق “بنیان مرصوص” کی پہلی سالگرہ کے موقع پر ریاست بھر میں پروقار تقریبات کا انعقاد کیا گیا جس میں افواجِ پاکستان اور شہداء کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ ان تقریبات کا مقصد اس عظیم قربانی اور اتحاد کی یاد تازہ کرنا ہے جس نے ایک سال قبل دشمن کے غرور کو خاک میں ملا دیا تھا۔

ریاست بھر میں دعائیہ تقاریب اور نمائش:

آزاد کشمیر بھر میں دن کا آغاز مساجد میں فجر کی نماز کے بعد دعائے شکر، شہدائے وطن کے ایصالِ ثواب اور بلندیٔ درجات کے لیے خصوصی دعاؤں سے ہوا۔ ہر مسجد میں پاکستان کی سلامتی، استحکام اور کشمیر کی آزادی کے لیے ہاتھ بلند کیے گئے۔ یہ منظر اس بات کی علامت تھا کہ پاکستان اور کشمیر کا تعلق محض سرحدوں کا نہیں بلکہ ایمان، نظریے اور قربانی کا رشتہ ہے۔ یادگارِ شہداء چھتر چوک مظفرآباد پر صدر آزاد کشمیر اور جنرل آفیسر کمانڈنگ نے پھولوں کی چادر چڑھا کر شہدائے وطن کو سلام پیش کیا، جبکہ نڑول اسٹیڈیم مظفرآباد میں پاک فوج اور مختلف حکومتی محکموں کی جانب سے خصوصی نمائش اور اسٹالز عوام کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ نوجوانوں، طلبہ، خواتین، بچوں اور بزرگوں نے بھرپور شرکت کر کے یہ واضح کر دیا کہ افواجِ پاکستان اور عوام ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک ہی قوت کا نام ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق دو نظریات کے درمیان فیصلہ کن جنگ تھی، دشمن کا خواب کبھی پورا نہیں ہونے دیں گے: فیلڈ مارشل عاصم منیر

آپریشن بنیانِ مرصوص کے تاریخی حقائق:

یہ تمام مناظر اُس تاریخی رات کی یاد تازہ کر رہے تھے جب مئی 2025ء میں بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے میزائل حملوں کے ذریعے خطے کے امن کو تباہ کرنے کی کوشش کی، مگر پاکستان کی بہادر افواج نے “آپریشن بنیان مرصوص” کے ذریعے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ دشمن کو شاید یہ گمان تھا کہ پاکستان اندرونی اختلافات، سیاسی کشیدگی اور معاشی مشکلات کی وجہ سے کمزور ہو چکا ہے، لیکن معرکۂ حق نے دنیا کو دکھا دیا کہ جب وطنِ عزیز پر آنچ آتی ہے تو پوری قوم ایک سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہے۔ “بنیانِ مرصوص” قرآنِ مجید کی وہ اصطلاح ہے جو ایسی مضبوط دیوار کے لیے استعمال ہوئی جس میں کوئی دراڑ نہ ہو۔ یہی کیفیت پاکستان اور کشمیر کے عوام میں اس معرکے کے دوران دیکھنے کو ملی۔ پوری قوم، تمام سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر، اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔

قومی وحدت اور میڈیا کا کلیدی کردار:

سوشل میڈیا پر چلنے والے منفی پروپیگنڈے، بیرونی سازشیں اور دشمن کی نفسیاتی جنگ سب ناکام ہو گئیں کیونکہ پاکستانی قوم نے ثابت کر دیا کہ اس کا اصل سرمایہ اس کی افواج، اس کا نظریہ اور اس کی وحدت ہے۔ معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ پر آزاد کشمیر کے طول و عرض میں جشنِ فتح بنیان مرصوص صرف ایک تقریب نہیں بلکہ تجدیدِ وفا کا دن بن گیا۔ اس معرکۂ حق کے دوران جہاں افواجِ پاکستان نے دشمن کو بھرپور جواب دے کر قومی دفاع کو ناقابلِ تسخیر ثابت کیا، وہیں پاکستانی میڈیا نے بھی انتہائی ذمہ داری، سنجیدگی اور قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے مثبت کردار ادا کیا۔ پاکستانی میڈیا نے جھوٹ، اشتعال انگیزی اور نفرت پر مبنی بھارتی پروپیگنڈے کا مدلل اور باوقار انداز میں جواب دیا اور قوم کے حوصلے بلند رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس نازک مرحلے پر پاکستانی میڈیا نے سنسنی پھیلانے کے بجائے ذمہ دار صحافت کو ترجیح دی، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی باشعور نوجوانوں نے افواجِ پاکستان اور ریاستی مؤقف کے حق میں مؤثر آواز بلند کی۔

مزید پڑھیں: معرکہ حق اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات پر اُس کے حضور سجدہ شکر بجا لانے کا دن ہے، شہباز شریف

عزمِ نو اور مستقبل کی تعمیر:

مظفرآباد کے آزادی چوک میں منعقد ہونے والی عظیم الشان ریلی میں خواتین، نوجوان، طلبہ، وکلاء اور سول سوسائٹی کے نمائندے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم اٹھائے اپنی افواج سے اظہارِ یکجہتی کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ کشمیر گرلز کیڈٹ کالج مظفرآباد سمیت دیگر تعلیمی اداروں میں منعقدہ تقریبات اس بات کا ثبوت تھیں کہ نئی نسل پاکستان کے نظریے اور شہداء کی قربانیوں سے مکمل آگاہ ہے۔ یہ جشن صرف ماضی کی کامیابیوں کو یاد کرنے کے لیے نہیں بلکہ مستقبل کے عزم کی تجدید کے لیے بھی تھا۔ آج “ہم ہیں بنیانِ مرصوص” صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ قومی غیرت، دفاعِ وطن، پاکستانیت اور کشمیریت کی نئی پہچان بن چکا ہے۔ یہ وہ پیغام ہے جو دشمن کو بتاتا ہے کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت کا جواب صرف افواجِ پاکستان نہیں بلکہ پوری قوم دے گی۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے، افواجِ پاکستان کو مزید قوت عطا فرمائے، شہدائے وطن کے درجات بلند کرے اور کشمیری عوام کو آزادی کی منزل سے ہمکنار فرمائے۔ آمین۔

Scroll to Top