حکومت نے وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے دائرہ کار میں توسیع کرتے ہوئے اوورسیز پاکستانیوں اور نجی شعبے کو بھی قرضوں کے حصول کے لیے شامل کر لیا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کے اجلاس میں وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے حوالے سے اہم منظوری دی گئی۔ اجلاس کے اعلامیے کے مطابق، ہاؤسنگ فنانس کی سہولت اب اوورسیز پاکستانیوں اور نجی شعبے کے ملازمین کو بھی میسر ہوگی۔ اس منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 5 لاکھ افراد کو ہاؤسنگ لون فراہم کرنے کا ہدف مقرر کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جس کے لیے ایک ملٹی چینل نظام متعارف کروانے کی تجویز بھی زیر بحث ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اپنا گھر سکیم، ایک کروڑ روپے تک قرض کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے؟
قرضے کی حد اور دورانیہ:
اس اسکیم کے تحت شہری گھر کی خریداری یا تعمیر کے لیے ایک کروڑ روپے تک کا قرضہ حاصل کر سکیں گے۔ قرضہ واپسی کی مدت 20 سال مقرر کی گئی ہے، جبکہ قرضوں کی رقم کو چار مختلف سلیبز (25 لاکھ، 50 لاکھ، 75 لاکھ اور ایک کروڑ روپے) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ حکومت کل لاگت کا 90 فیصد حصہ ادا کرے گی جبکہ شہری کو صرف 10 فیصد حصہ خود ادا کرنا ہوگا۔
مارک اپ اور ماہانہ اقساط:
عوام پر مالی بوجھ کم کرنے کے لیے پہلے 10 سالوں کے لیے مارک اپ کی شرح صرف 5 فیصد فکسڈ رکھی گئی ہے، جس کے بعد اسٹینڈرڈ مارک اپ لاگو ہوگا۔
- 25 لاکھ روپے کے قرضے پر قسط: 16,499 روپے ہوگی۔
- ایک کروڑ روپے کے قرضے پر قسط: 65,996 روپے مقرر کی گئی ہے۔
درخواست کے لیے ضروری شرائط:
پروگرام میں چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے وہ تمام شہری درخواست دے سکتے ہیں جو درست شناختی کارڈ رکھتے ہوں اور کسی بینک کے ڈیفالٹر نہ ہوں۔ درخواست گزار کو اپنی آمدنی کی تفصیلات، جائیداد کی ضروریات اور قرض کی پسندیدہ کیٹیگری کا انتخاب کرنا ہوگا۔
دیگر منصوبوں کے لیے گرانٹس کی منظوری:
اجلاس میں نارووال میں فیض احمد فیض کمپلیکس کی تعمیر کے لیے 10 کروڑ اور اسلام آباد کے دانش اسکول کُری کے لیے 35 کروڑ روپے کی تکنیکی گرانٹ بھی منظور کی گئی۔ علاوہ ازیں، یوم آزادی اور معرکہ حق کی تقریبات کے لیے بھی تقریباً 6 کروڑ روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔




