مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے توہین عدالت کی درخواست پر آزاد کشمیر یونیورسٹی کے رجسٹرار کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔
عدالتِ عظمیٰ کا دو رکنی بینچ، جس کی سربراہی چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جناب جسٹس راجہ سعید اکرم خان کر رہے ہیں جبکہ بینچ میں سینیئر جج سپریم کورٹ جناب جسٹس رضا علی خان بھی شامل ہیں، نے توہینِ عدالت کی درخواست کی سماعت کے دوران یہ حکم جاری کیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مقتدرطبقہ مہاجرین مقیم پاکستان کے مسائل حل پر توجہ نہیں دےرہا،سردار زاہد اقبال
درخواست گزار صائمہ ہارون ایڈمن آفیسر جامعہ کشمیر کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے سال 2018 میں انہیں ترقی دینے کا واضح حکم دیا تھا جسے بعد ازاں دائر کی گئی نظرثانی درخواست (ریویو) میں بھی برقرار رکھا گیا۔ تاہم، ان عدالتی احکامات کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے تاحال عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
عدالت نے اس مبینہ عدم تعمیل کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے رجسٹرار یونیورسٹی کو آئندہ سماعت پر ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے تاکہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجوہات واضح کی جا سکیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:معرکہ حق: پاکستان کا ‘فتح’ میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ، دشمن کے لیے واضح پیغام
قانونی ماہرین کے مطابق، اگر عدالت اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ احکامات کی دانستہ خلاف ورزی کی گئی ہے تو متعلقہ حکام کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے، جس میں جرمانہ یا دیگر قانونی سزائیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔




