رائٹرز

ہرمز میں کسی بھی قسم کی مداخلت جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کی جائیگی،ایران

ایران کی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی مداخلت جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔

ایزیری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ کی جانب سےالزام تراشی پر مبنی بیانیہ قابل قبول نہیںاور آبنائے ہرمز اور خلیج کے معاملات کسی بیرونی بیان بازی سے نہیں چلائے جا سکتے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ خطہ کسی قسم کی سیاسی بیان بازی کے لیے جگہ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مذاکرات میں پیشرفت کا دارومدار امریکی روئیے پر ،پاکستان بدستور ثالث ہے، ایرانی سفیر

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ امریکہ ایک بحری مشن شروع کرے گا، جس کا مقصد آبنائےمیں پھنسے ہوئے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا ہے۔

ایران کے عہدیدار کے مطابق اس حساس سمندری راستے میں کسی بھی بیرونی مداخلت سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، اور یہ اقدام حالیہ جنگ بندی کے معاہدے کے خلاف سمجھا جائے گا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ اپنے سوشل میڈیا ترتھ پرکہا کہ دنیا کےکچھ ممالک نے ہم سے اپنے جہاز نکالنےکیلئے مدد مانگی، امریکا پیر کی صبح آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو آزاد کرانے کی کوشش شروع کریگا۔

ان ممالک کاکہنا ہےکہ جب تک ہرمز نکلنےکےلیے محفوظ نہیں ہوجاتا وہاں سےجہاز واپس نہیں جائیں گے، آبنائے ہرمز سےجہازوں کی محفوظ نقل وحرکت کےعمل پراجیکٹ فریڈم کا آغازپیرکی صبح سےہوگا۔

امریکی صدر نے کہا یہ ان ممالک کےجہاز ہیں جو مشرق وسطیٰ میں حالیہ تنازع میں شامل نہیں، اپنے نمائندوں سے کہاکہ ان ممالک کو بتادیں کہ ان کے پھنسےجہاز اور عملےکو آبنائے ہرمز سےنکالنےکی بہترین کوشش کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا

انہوں نے کہا کہ اس عمل کا مقصد بے گناہ ممالک، کمپنیوں اور افراد کو محفوظ راستہ فراہم کرنا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس انسانی ہمدردی کے مشن میں کسی قسم کی مداخلت کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

Scroll to Top