امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حالیہ بیان میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کی تعریف کی ہے، تاہم ایران سے متعلق سفارتی حکمتِ عملی کے تناظر میں ایک مجوزہ امریکی وفد کا اسلام آباد دورہ منسوخ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے اپنے خصوصی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اورجیرڈ کشنر کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ فی الحال روک دیا ہے ۔
ان کے مطابق اس فیصلے کی بنیادی وجوہات میں طویل سفر، وقت کا ضیاع اور متوقع سفارتی فوائد کا محدود ہونا شامل ہے ۔ یہ وفد ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی اور مذاکراتی عمل کے حوالے سے خطے میں رابطوں کے لیے بھیجا جانا تھا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایران کیخلاف جنگ جیت چکے ، مقصد پورا ہونے تک جائیں گے نہیں، ڈونلڈٹرمپ
بعد ازاں فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے پاکستان کی قیادت کے بارے میں مثبت خیالات کا اظہار کیا ۔ انہوں نے وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کی ۔
ان کا کہنا تھاکہ دونوں شخصیات باصلاحیت اور مؤثر قیادت کی حامل ہیں۔ ٹرمپ نے پاکستان کو ایک اہم اور قابلِ ذکر ملک قرار دیتے ہوئے اس کے کردار کو خطے میں تسلیم کیا ۔
ایران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کسی ثالثی عمل کے بجائے براہِ راست ان عناصر سے بات چیت کا خواہاں ہے جو ایران میں اصل فیصلہ سازی کرتے ہیں ۔ ٹرمپ کے مطابق اگر ایران مذاکرات کے لیے آمادہ ہو تو امریکہ کسی بھی وقت رابطے کے لیے تیار ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ڈونلڈٹرمپ نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے کا عندیہ دیدیا
مجموعی طور پر اس بیان میں ایک طرف پاکستان کے ساتھ مثبت سفارتی لہجہ دیکھا گیا، جبکہ دوسری طرف ایران کے معاملے پر امریکی پالیسی میں براہِ راست مذاکرات پر زور دیا گیا ہے اور مجوزہ علاقائی سفارتی دورے کو فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے ۔




