اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی مختصر ٹیم کے ساتھ آج رات اسلام آباد آمد متوقع ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم اور آرمی چیف سے منسوب انٹرویو، حکام نے GTM کے دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد، مسقط، اور ماسکو کے بروقت دورے کا آغاز کررہا ہوں۔
عباس عراقچی کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ میرے دوروں کا مقصد دوطرفہ معاملات پر اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطہ کاری اور علاقائی پیش رفت پر مشاورت کرنا ہے۔ ہمارے پڑوسی ہماری ترجیح ہیں۔
دوسری جانب پاکستانی حکومتی ذرائع نے قبل ازیں کہا تھا کہ پاکستانی مصالحتی ٹیم سے اہم بات چیت اور گفتگو کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد امن مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ متوقع ہے۔
Embarking on timely tour of Islamabad, Muscat, and Moscow.
Purpose of my visits is to closely coordinate with our partners on bilateral matters and consult on regional developments.
Our neighbors are our priority.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) April 24, 2026
امریکا کی لاجسٹک اور سیکیورٹی ٹیم بھی مذاکراتی عمل کے لیے اسلام آباد میں پہلے سے موجود ہے۔
قبل ازیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کا ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے اہم ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا۔
ٹیلی فونک رابطے میں علاقائی صورتحال، جنگ بندی اور اسلام آباد کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ریاست کو وقتی نہیں، جامع پالیسی کی ضرورت ہے : سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مسائل کے حل میں مسلسل اور بامعنی مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زیر انتظام یونیورسٹی( پیاس) کے طالبعلم صالح آصف کی بڑی کامیابی ، فوربز ارب پتیوں کی فہرست میں شامل
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس موقع پر پاکستان کے مثبت اور تعمیری سہولت کاری کے کردار کو سراہا اور خطے میں امن کے لیے اسلام آباد کی کاوشوں کو اہم قرار دیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے اور آئندہ بھی قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔




