جواد احمد قتل کیس: لاپتہ طالب علم کی لاش گلپور ڈیم سے برآمد، ملزمان گرفتار

کوٹلی کے مدرسہ میں زیرِ تعلیم 16 سالہ طالب علم جواد خواجہ  کے حوالے سے انتہائی افسوسناک خبر سامنے آئی ہے، جن کی لاش گلپور ڈیم سے برآمد ہو گئی ہے۔ جواد احمد کا تعلق وادیٔ نیلم کے علاقے خواجہ سیری سے تھا اور وہ گزشتہ کچھ روز سے لاپتہ تھے جنہیں قتل کر دیا گیا تھا۔

پولیس حکام نے اس حساس کیس میں اہم پیشرفت کرتے ہوئے ابتدائی تحقیقات کے بعد ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایس پی ضلع نیلم ویلی راجہ بشیر کی ہدایات پر ڈی ایس پی شاردہ اور ایس ایچ او نے لواحقین سے ملاقات کی اور انہیں تفتیشی عمل پر بریفنگ دی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کوٹلی پولیس کے ماہر افسران میرٹ پر تفتیش کر رہے ہیں اور شواہد کی بنیاد پر کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: جواد خواجہ قتل کیس، پولیس حکام کی لواحقین کو آپریشن پر بریفنگ

دوسری جانب مقتول کے ورثاء اور اہل علاقہ نے مظفرآباد میں شدید احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ لواحقین نے مطالبہ کیا ہے کہ لاش کا پوسٹ مارٹم کروایا جائے تاکہ موت کی اصل وجوہات کا علم ہو سکے اور اس قتل کی مکمل شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔ پولیس کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری اور یقین دہانی کے بعد لواحقین نے تحقیقات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

واضح رہے کہ جواد خواجہ کو قتل کر کے ان کی لاش دریا برد کر دی گئی تھی جو اب ڈیم سے مل چکی ہے۔ اس واقعے نے پورے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے اور عوام کی جانب سے معصوم طالب علم کے لیے انصاف کی اپیل کی جا رہی ہے۔

Scroll to Top