پاکستان ایران ٹرانزٹ کوریڈور فعال، وسطی ایشیا تک تجارت کا باضابطہ آغاز

پاکستان اور ایران کے درمیان ٹرانزٹ کوریڈور کے ذریعے تجارت کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جسے علاقائی تجارت کے فروغ میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

ترجمان کسٹمز کے مطابق، اس کوریڈور کے تحت ازبکستان کے لیے پہلی برآمدی کھیپ روانہ کر دی گئی ہے۔ ڈی جی کسٹمز ٹرانزٹ ٹریڈ ثناء اللہ ابڑو نے کوریڈور کے راستے اس پہلی کھیپ کو باقاعدہ رخصت کیا۔

یہ بھی پڑھیں: گوادر میں سعودی عرب کی بڑی سرمایہ کاری: 10 ارب ڈالر سے آئل ریفائنری کے قیام کا امکان

بیان میں بتایا گیا کہ فروزن بیف پر مشتمل یہ کھیپ خصوصی ٹرکوں کے ذریعے گوادر کے راستے ایران پہنچے گی۔ وہاں سے اس مال بردار کھیپ کو مزید وسطی ایشیائی ملک ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند منتقل کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق، پاکستان ایران ٹرانزٹ کوریڈور وسطی ایشیائی ممالک تک برآمدات کے لیے ایک متبادل اور مؤثر راستہ فراہم کرے گا۔ اس اقدام سے نہ صرف تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ علاقائی روابط بھی مزید مضبوط ہوں گے۔

مزید بتایا گیا کہ اس کوریڈور کو مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے تفتان، رمدان، سست اور گوادر سمیت تمام اہم بارڈر کراسنگ پوائنٹس کو بھی متحرک کر دیا گیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد تجارتی نقل و حمل کو مزید آسان، تیز اور مؤثر بنانا ہے تاکہ ملکی برآمدات کو نئی منڈیاں مل سکیں۔

مزید پڑھیں: راولپنڈی میں مسافر اور مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں 5 سے 26 فیصد تک کمی کرنے کا فیصلہ

Scroll to Top