مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) محکمہ تعلیم کے انتظامی عہدوں پر تعیناتیوں کے معاملات حکومت سے حل نہ ہو سکے۔
ڈسٹرکٹ جہلم ویلی میں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ انتظامی عہدے پر تبادلہ و تقرری کا تنازعہ شدت اختیار کرتے ہوئے عدالتِ عظمیٰ تک جا پہنچا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستانی پاسپورٹ دنیا کے 101 بہترین پاسپورٹ میں شامل
تفصیلات کے مطابق قبل ازیں صائمہ نذیر عباسی بطور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (نسواں) خدمات انجام دے رہی تھیں۔
بعد ازاں ان کا تبادلہ بطور ڈپٹی ڈائریکٹر نظامتِ تعلیم کر دیا ان کی جگہ کوثر شفیع کو بطور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (نسواں) تعینات کردیاگیا ہے۔
اس تقرری کے خلاف صائمہ نذیر عباسی نے متعلقہ فورم سے رجوع کرتے ہوئے اسے چیلنج کردیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آرٹیمس ٹو مشن کی کامیابی: خلاباز چاند کا تاریخی سفر مکمل کر کے زمین پر واپس پہنچ گئے
صائمہ نذیر عباسی کی درخواست پر عدالت کی جانب سے عارضی حکمِ امتناع جاری کیا گیا
صائمہ نذیر عباسی بدستور اپنے عہدے کا چارج سنبھالے رکھا یہ معاملہ کچھ عرصہ تک عدالت میں زیرِ سماعت رہا۔
بعد ازاں مورخہ 07 اپریل 2026 کو عدالت نے عبوری حکم ختم کرتے ہوئے فیصلہ کوثر شفیع کے حق میں سنا دیا۔
عدالتی فیصلے کے بعد کوثر شفیع نے 08 اپریل 2026 کو سیکرٹری تعلیم کے روبرو اپنی جوائننگ رپورٹ پیش کی اور باضابطہ طور پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (نسواں) جہلم ویلی کا چارج سنبھال لیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پی ایس ایل 11: حیدرآباد کنگزمین کے لیے بڑی خوشخبری، گلین میکسویل پاکستان پہنچ گئے
تاہم اس پیشرفت کے فوراً بعد صائمہ نظیر عباسی نے 09 اپریل 2026 کو عدالتِ عظمیٰ سے رجوع کرتے ہوئے ’’اسٹیٹس کو‘‘کا حکم حاصل کر لیا۔
عدالتِ عظمیٰ کے حکم کے مطابق فریقین کو اسی پوزیشن پر برقرار رہنا ہے جس پوزیشن پر وہ حکم جاری ہونے کے وقت موجود تھے۔
ذرائع کے مطابق چونکہ اسٹیٹس کو کے اجرا کے وقت کوثر شفیع بطور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (نسواں) باقاعدہ چارج سنبھال چکی تھیں۔
عملی طور پر ذمہ داریاں ادا کر رہی تھیں اس لئے موجودہ عدالتی حکم کے تحت وہ بدستور اسی عہدے پر برقرار رہیں گی جب تک عدالت کی جانب سے کوئی نیا حکم جاری نہیں ہوتا۔




