گلگت سے 4سے 5سال کی عمر میں اغواہونیوالی بچی20سال بعد اپنے والدین سے ملی جہاں اس کا نام تبدیل ہونے کیساتھ اب وہ خود 3بچوں کی ماں بھی ہے۔
گلگت سے اغواء ہونیوالی عائشہ صدیقہ جس کی شناخت اب کائنات بن چکی ہے کو 4سے 5سال کی عمر میں اغواء کیا گیا اور لاہور داتا دربارمیں اغواء کار رکشہ لینے گئے جہاں اس نے ایک خاتون سے مدد طلب کی۔خاتون نے والدین تلاش کئے جب کوئی نہ ملا تو اسے اپنے گھر لے گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ہلاں بالا میں نامعلوم افراد نے غریب خاندان کا گھر جلا دیا، لاکھوں روپے کا سامان خاکستر
خاتون کے مطابق کائنات صرف شینا زبان جانتی تھی جس کی وجہ سے اس کے والدین کو ڈھونڈنا مزید مشکل تھا، کائناب کی اب کوٹ ادو میں سہیل کی شادی ہوچکی ہےجس نے ہی اپنی بیوی کو خاندان سے ملانے میں کردار ادا کیا ہے۔
محمد سہیل کے مطابق کائنات نے مجھ سے ایک روز کہا کیا آپ مجھے والدین سے نہیں ملا سکتے اور ساتھ ہی الماری کے کونے میں رکھا ایک پُرانا شاپنگ بیگ نکالتے ہی کھولنےلگیں ، اس شاپنگ بیگ کے اندر تہہ در تہہ شاپنگ بیگز تھے جس کے آخری شاپنگ بیگ میں ایک کپڑا ڈوریوں سے بندھا ہوا تھا۔
جب کائنات نے ڈوریاں کھولیں تو اس کے اندر سے بچوں کا ایک پُرانا سُوٹ نکل آیا۔ یہ سُوٹ دیکھتے ہی اُن کے شوہر محمد سہیل کی آنکھیں بھر آئیں۔
محمد سہیل بتاتے ہیں کہ تہہ در تہہ شاپنگ بیگز سے سُوٹ نکالنے کے بعد اہلیہ نے بتایا کہ جب میں اغوا ہوئی تو اس وقت میں نے یہی سُوٹ پہن رکھا تھا اور اسے آج تک سنبھال کے رکھا ہے۔ یہ دیکھ کر میں اپنے آنسو نہ روک سکا۔

ایک ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابقجس خاتون نے کائنات کو اپنے گھر میں پناہ دی وہ سہیل کی دُور کی رشتہ دار تھیں، اس خاتون کے ہاں ایک فوتگی پر جب محمد سہیل اُن کے گھر آئے تو انہوں نے کائنات کو پہلی بار دیکھا۔
محمد سہیل کائنات کے ساتھ رابطے میں رہے اور پھر ایک روز انہیں کہا کہ اگر آپ پر ظلم ہو رہا ہے تو آپ ہمارے ہاں آجائیں۔ یوں کائنات سوچ بچار کے بعد اُن کے گھر چلی گئیں۔
وہ بچی اُن کے گھر آگئی اور جب وہ بالغ ہوئی تو خاندان کے مشورے اور اس کی رضامندی سے اُس کا نکاح محمد سہیل سے ہو گیا۔
کائنات کے لیے یہ زندگی کا ایک نیا باب تھا لیکن ماضی کے زخم اب بھی کہیں نہ کہیں موجود تھے۔ ان کے شوہر کے مطابق وہ ڈپریشن کا شکار رہتیں، بلڈ پریشر بڑھ جاتا اور اکثر خاموشی میں ڈُوب جاتیں۔
محمد سہیل بتاتے ہیں کہ ایک روز راولپنڈی کے سفر کے دوران میں نے فیصلہ کیا کہ اب اپنی اہلیہ کو اُن کے خاندان سے ملوانے کی کوشش کروں گا۔
اسی تلاش کے دوران محمد سہیل کو سوشل میڈیا پر میرا پیارا پلیٹ فارم نظر آیا جہاں بِچھڑے ہوئے افراد کو اُن کے اہلِ خانہ سے ملوانے کی ویڈیوز موجود تھیں۔
یہ پلیٹ فارم دراصل پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے سیف سٹی ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کا حصہ ہے جو اب تک 64 ہزار سے زائد بچوں، بزرگوں اور ذہنی معذور افراد کو اُن کے اہل خانہ سے ملوا چکا ہے۔
محمد سہیل نے اس ٹیم سے رابطہ کیا اور پھر میرا پیارا ٹیم نے کائنات کا انٹرویو کیا۔ میرا پیارا ٹیم کے ترجمان بتاتے ہیں کہ کائنات کا ویڈیو انٹرویو لیا گیا اور ان سے تفصیلات جمع کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں:ثمر خان ،پہلی پاکستانی خاتون جو آرکٹک مہم مکمل کرنے میں کامیاب
کائنات نے بتایا کہ ان کے والد کوئی کام کرتے تھے اور ہفتے بعد گھر واپس آتے تھے جبکہ ان کے چار بھائی اور ایک بہن بھی تھی۔ حکام کو اس سُوٹ کی تصویر بھی دی گئی جو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی گئی۔
میرا پیارا کے ترجمان کے مطابق ’ہماری ٹیم نے سوشل میڈیا پر مہم شروع کی اور گلگت پولیس سے بھی رابطہ کیا۔ گلگت پولیس کو بتایا گیا کہ جہاں شینا زبان بولی جاتی ہے وہاں سے معلومات اکٹھی کی جائیں۔ یوں ہمارا پیغام گلگت بھر میں پھیلنے لگا۔
اس مہم کے چند ہی روز بعد ایک خاندان نے سوشل میڈیا پر یہ تفصیلات دیکھیں اور دعویٰ کیا کہ یہ اُن کی گم شدہ بیٹی ہو سکتی ہے۔
تمام کوائف اور معلومات جمع کرنے کے بعد وقتی طور پر یہ تسلیم کیا گیا کہ رابطہ کرنے والے ہی کائنات کے ورثا ہیں۔
محمد سہیل کہتے ہیں جب کائنات اپنے والدین سے ملیں تو الفاظ جیسے بے معنی ہو گئے۔ آنکھوں سے بہتے آنسو ہی سب کچھ بیان کر رہے تھے۔ کائنات کی شناخت کی تصدیق کے لیے وہی سُوٹ بھی دکھایا گیا جسے انہوں نے برسوں سے سنبھال کر رکھا تھا۔
خاندان نے کائنات کو پہچان لیا۔ محمد سہیل نے اس ملاقات سے متعلق بتایا کہ ’خونی رشتہ بہت عجیب ہوتا ہے۔ اتنے عرصے بعد جب کوئی اپنے خاندان سے ملتا ہے تو وہ کیفیت بیان نہیں کی جا سکتی۔ ہم سب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
حکام کے مطابق قانونی تقاضوں کے تحت ڈی این اے ٹیسٹ بھی کیا گیا ہے جس کے نتائج آنا ابھی باقی ہیں۔
کائنات کے والدین اور دیگر رشتہ دار لاہور آئے۔ سہیل کے مطابق یہ خوشی کا ایک ایسا منظر تھا جسے الفاظ میں قید کرنا مشکل ہے۔

کائنات کے والدین نے کئی دن اُن کے ساتھ گزارے۔ محمد سہیل کہتے ہیں کہ ’جس دن سے ہم نے یہ تلاش شروع کی میری اہلیہ نے بلڈ پریشر کی کوئی دوا نہیں لی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آج کائنات تین بچوں کی ماں ہیں۔ ان کے والد نے بتایا کہ کائنات کا اصل نام عائشہ صدیقہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کم جونگ کی بیٹی نے13 سال کی عمر میں ٹینک سنبھال لیا
محمد سہیل نے گزرے کئی برسوں سے متعلق بتایا کہ ’ہم نے کائنات کو ایک ایسا گھر دیا تھا جہاں اسے ہمیشہ اپنایت محسوس ہوئی۔
اب جب کائنات کو اپنا خاندان مل گیا ہے تو میں نے ان کے والدین سے کہا کہ وہ انہیں کچھ عرصے کے لیے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ جُدائی دونوں طرف کتنی تکلیف دہ تھی۔




