مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) کشمیر ڈیجیٹل کے اینکر پرسن مجتبیٰ بٹ نے منگل کے روزشوکت نواز میر کو 500 ملین روپے کا ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس ارسال کر دیا۔
نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شوکت نواز میر نے سول سیکرٹریٹ مظفرآباد میں مجتبیٰ بٹ کے خلاف ایک ’’بے بنیاد، غیر سنجیدہ، بدنیتی پر مبنی اور جھوٹی درخواست‘‘ دائر کی گئی ہے
نامعقول درخواست میں اینکر مجتبیٰ بٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ ہرجانے کا دعویٰ مجتبیٰ بٹ کی جانب سے معروف قانون دان غلام اللہ اعوان ایڈووکیٹ نے جمع کروایا ہے
دعوے میں موقف اپنایا گیا کہ مذکورہ درخواست نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ اس کا مقصد ذاتی اور پیشہ ورانہ شہرت کو مجروح کرنا تھا۔
مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) آزادکشمیر کے معروف قانون دان غلام اللہ اعوان ایڈووکیٹ نے اینکر کشمیر ڈیجیٹل محمد مجتبیٰ بٹ کی جانب سے ممبر عوامی ایکشن کمیٹی شوکت نواز میر کو کروڑوں روپے کے ہرجانے کا دعویٰ دائر کردیا۔
ذرائع کے مطابق غلام اللہ ایڈووکیٹ نے اپنے موقف میں واضح کیا کہ شوکت نواز میر نے تھانہ پولیس سول سیکر ٹریٹ مظفر آباد میں میرے موکل کیخلاف ایک بے بنیاد، من گھڑت ، بد نیتی پر مبنی اور خلاف حقائق درخواست دائر کی جس کا واحد مقصد میرے موکل کو ہراساں کر نابدنام کرنا اور اس کی پیشہ ورانہ و سماجی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔
غلام اللہ ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ شوکت نواز میر نے ایک عوامی شخصیت ہونے کے باوجود صحافتی اصولوں اور ضوابط کو نظر انداز کرتے ہوئے پروگرام میں شریک مہمان کی ذاتی آراء کو بد نیتی سے میرے موکل سے منسوب کیا
حالانکہ پرو گرام کے آغاز میں واضح طور پر ڈسکلیمر موجود تھا کہ مہمان کی آراء ادارے یا میز بان کی نمائندگی نہیں کر تیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وادی نیلم: “لیتری” کی قدیم ثقافت آج بھی زندہ، بھائی چارے اور اتفاق کی عظیم مثال قائم
غلام اللہ اعوان ایڈووکیٹ نے شوکت نواز میر کیخلاف دعویٰ میں کہا کہ شوکت نواز میر کی جانب سے دائر درخواست کے مندرجات میں کوئی ایسا مواد موجود نہیں
جس سے یہ ثابت ہو کہ اینکر مجتبیٰ بٹ نے براہ ر است شوکت نواز میر کی توہین یا ہتک عزت کی ہو بلکہ تمام تر الزامات پروگرام میں شریک مہمان کی جانب سے لگائے گئے ہیں ۔
اس کے باوجود آپ نے بدنیتی، تعصب اور ذاتی عناد کی بنیاد پر میرے موکل کو نشانہ بنایا۔
غلام اللہ اعوان ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ شوکت نواز میرنے میرے موکل کے ساتھ خاندانی تعلق رکھنے اور ذاتی طور پر واقف ہونے کے باوجود دانستہ طور پر درخواست میں میرے موکل کی ولدیت ’’ نامعلوم‘‘درج کر کے نہ صرف میرے موکل بلکہ اس کے خاندان کی عزت ووقار کو شدید مجروح کیا جو کہ بدنیتی کی واضح مثال ہے۔
دعویٰ میں کہا گیا ہے کہ شوکت نواز میر کی مذکورہ درخواست کے بعد آپ کی ایماء اُکسانے اور سرپرستی میں مختلف جعلی (فیک) اور فرضی سوشل میڈیا آئی ڈیز کے ذریعے میرے موکل کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔
گالم گلوچ اور ناز پیازبان استعمال کی گئی اور اسے مسلسل ذہنی اذیت، خوف اور دباؤ کا شکار بنایا گیا جس کے آپ براہ ر است ذمہ دار ہیں۔
غلام اللہ اعوان کا مزید کہنا تھا کہ جب شوکت نواز میر تھانہ میں درخواست دینے کیلئے آئےتو ان کے ہمر اہ در جنوں بااثر افراد موجود تھے، جن کی موجودگی کا واضح مقصد میرے موکل کو خوف وہر اس میں مبتلا کرنا، دباؤ میں لانا اور اس کی جان ومال کوخطرے میں ڈالنا تھا جو کہ ایک سنگین، غیر قانونی اور قابل مواخذہ عمل ہے۔
شوکت نواز میر کے مذکورہ بالا افعال نہ صرف ہتک عزت کے زمرے میں آتے ہیں بلکہ یہ ہر اسانی، مجرمانہ دھمکی اور ذہنی اذیت کے بھی مترادف ہیں جس کے باعث میرے موکل کی ذاتی، خاندانی اور پیشہ ورانہ ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔
میرے موکل اینکر محمد مجتبیٰ بٹ ایک باوقار ، پیشہ ور صحافی اور معزز گھرانے سے تعلق رکھتے ہیںجبکہ شوکت نواز میر کے ان غیر قانونی، غیر اخلاقی اور بدنیتی پر مبنی اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف ان کی شہرت متاثر ہوئی بلکہ ان کی جان ومال کو حقیقی خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔
لہذا بذریعہ ہذا نوٹس شوکت نواز کو مطلع کیا جاتا ہے کہ :
آپ اس نوٹس کی وصولی کے 15 ( پندرہ) دن کے اندر اندر اینکر مجتبیٰ بٹ سے غیر مشروط، تحریری اور پبلک سطح پر معافی طلب کریں۔ تھانے میں دائر کردہ جھوٹی ، بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی درخواست فوری طور پر واپس لی جائے ۔
اپنے زیر اثر تمام افراد، کارکنان اور وابستگان کو میرے موکل کے خلاف ہر قسم کی ہراسانی، دھمکی، کردار کشی اور پروپیگنڈا سے فوری طور پر باز رکھیں۔
مذکورہ اینکرمجتبیٰ بٹ کو ذہنی اذیت، شہرت کو نقصان اور ہتک عزت کے ازالے کے طور پر مبلغ روپے 50,00,00,000/- پچاس کروڑ روپے بطور ہر جانہ ادا کریں۔
تفصیل ہر جانہ اس طرح ہے۔
ہر جانہ ازالہ حیثیت عرفی 10 کروڑ روپے
ہر جانہ ازالہ ذہنی کرب 10 کروڑ روپے
ہر جانہ ازالہ جسمانی کرب 10 کروڑ روپے
ہر جانہ ازالہ صحافتی کرب 20 کروڑ روپے
کل مبلغ پچاس کروڑ روپے بنتے ہیں ۔ بصورت دیگر ، میرے موکل آپ کے خلاف متعلقہ عدالتوں میں دیوانی و فوجداری کارروائی (بشمول دعوی ہتک عزت ہر جانہ اور دیگر قانونی چارہ جوئی ) کا حق محفوظ رکھتے ہیں
جس کے تمام تر اخراجات ، نتائج اور ذمہ داری آپ پر عائد ہو گی۔ یہ نوٹس مکمل قانونی تقاضوں کے مطابق، بلا تعصب اور موکل کے حقوق کے تحفظ کیلئے ارسال کیا جا رہا ہے۔
(نوٹ) مکسی کا پی نوٹس ہذامعہ اے ڈی بغرض ثبوت محفوظ رکھی گئی ہے جو کہ آپ کے خلاف عدالت مجاز میں بوقت ضرورت بطور ثبوت پیش کیا جائیں گے۔




