آبنائے ہرمز کی بندش سے بحری ٹریفک شدید متاثر ہے اور امریکا بھی اپنے تمام تر دعوؤں اور دھمکیوں کے باوجود آبنائے ہرمز سے ایران کا کنٹرو ل ختم کروانے میں ناکام نظر آرہا ہے۔
دفاعی ماہرین کہتے ہیں ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنےکےلیے روایتی بحری بیڑے پر انحصار نہیں کرتا بلکہ ملٹی لیئر ڈیفنس اسٹریٹجی کا استعمال کرتا ہے جس میں اس کے ساحلوں پر موجود موبائل میزائل بیٹریز، چھوٹی اسپیڈ بوٹس، سمندری بارودی سرنگیں اور خودکش ڈرون شامل ہیں جو فضا سے بحری جہازوں کو ٹریک کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر حملہ کردیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین نے آبنائے ہرمز کے بحران کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کو قرار دے دیا
حالانکہ امریکا ایرانی بحریہ خاص طور پر اُس کی آبدوزوں کو مکمل ختم کرنے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن ابھی بھی Midget Submarines کا خطرہ موجود ہے جس نے اس بحری راستے کے استعمال پر خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
امریکا اسرائیل کے حملوں کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا مؤثر کنٹرول ظاہر کرنے کےلیے کئی بحری جہازوں پر حملے کئے۔
انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق 28 فروری سے یکم اپریل تک خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان کے اطراف میں 20 سے زائد بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں 10 افراد ہلاک ہوئے۔
ادارے کا مزید کہنا ہےکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث اس وقت خطے میں تقریباً 2 ہزار بحری جہاز پھنسے ہوئے ہیں اور ایران صرف چند ممالک کو اپنے جہاز لےجانے کی اجازت دے رہا ہے۔
ان 2 ہزار جہازوں میں سے تقریباً 400 جہاز خلیج عمان میں موجود ہیں، دیگر جہازوں کو نہر سوئز کی طرف موڑ دیا گیا ہے یا پھر انہیں ایشیا اور یورپ تک اشیاء پہنچانے کے لیے جنوبی افریقہ میں کیپ آف گڈ ہوپ کے راستے طویل سفر کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز سے امدادی بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت مل گئی
آبنائے ہرمز سے گزشتہ 24 گھنٹے میں ایران کی اجازت سے 15 جہاز گزرے ہیں، ایرانی میڈیا کے مطابق یہ تعدادجنگ شروع ہونےسے پہلےکی نسبت 90 فیصدکم ہے۔




