وفاقی دارالحکومت اسلام آباد 30 مارچ کو ایک انتہائی اہم سفارتی مرکز بننے جا رہا ہے جہاں سعودی عرب،ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ ایک ہنگامی سفارتی اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچ رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق عالمی سیاسی منظر نامے میں اس سفارتی بیٹھک کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت سفارتی سطح پر رل گیا ،خواجہ آصف کا بھارتی وزیر خارجہ کے بیان پر ردعمل
جب خطہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم کے دہانے پر کھڑا ہے اور صدر ٹرمپ کی جانب سے دی گئی 6 اپریل کی ڈیڈ لائن سر پر ہے۔
اس اعلیٰ سطحی اجلاس کا بنیادی ایجنڈا مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادلوں کو چھانٹنا اور ایران کی توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملوں کو روکنے کے لیے ایک متفقہ ‘پیس روڈ میپ’ تیار کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق، پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس میں انکشاف کیا جائے گا کہ کس طرح واشنگٹن اور تہران کے درمیان پسِ پردہ مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
اجلاس میں آبنائے ہرمز کی صورتحال اور عالمی تجارتی بحری جہازوں کو درپیش خطرات پر بھی تفصیلی غور ہوگا، جہاں پاکستان کی جانب سے ثالثی کا کردار کلیدی رہا ہے۔
سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ اسلام آباد میں ان چاروں بااثر اسلامی ممالک کا اکٹھا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ مسلم امہ خطے میں کسی بھی بڑی تباہی کو روکنے کے لیے ایک پیج پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی سفارتی کوششیں کامیاب ہونے لگیں،ٹرمپ اور فیلڈ مارشل کی بات چیت کی تصدیق ہوگئی
30 مارچ کو ہونے والی اس مشاورت کے نتائج نہ صرف 6 اپریل کی ڈیڈ لائن کے مستقبل کا تعین کریں گے بلکہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں اور معاشی استحکام پر بھی گہرے اثرات مرتب کریں گے۔
پوری دنیا کی نظریں اب اسلام آباد سے جاری ہونے والے اس ممکنہ مشترکہ اعلامیے پر جمی ہیں جو خطے میں امن کی نئی بنیاد رکھ سکتا ہے۔




