مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع نے عالمی معیشت میں دوبارہ غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے اور اس کے اثرات براہِ راست تیل کی عالمی منڈی پر پڑ رہے ہیں ۔
حالیہ دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے صارفین اور سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے ۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کو برینٹ خام تیل کی قیمت 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ ایک دن قبل یہ 102 ڈالر فی بیرل تھی ۔ اس سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال اور بے چینی کی عکاسی ہوتی ہے ۔
ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت عالمی مارکیٹ میں 93 ڈالر فی بیرل پر ہے جبکہ یو اے ای میں خام تیل کی قیمت 6 فیصد اضافے کے ساتھ 112 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے ۔
ماہرین کے مطابق اگر ایران اور امریکا کے درمیان جنگ میں شدت آتی ہے یا آبنائے ہرمز میں تیل کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو قیمتیں 120 سے 130 ڈالر فی بیرل یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی : ایشیائی ترقیاتی بینک کا متاثرہ معیشتوں کیلئے فوری مالی پیکج کا اعلان
موجودہ کشیدگی برقرار رہنے کی صورت میں قیمتیں 90 سے 110 ڈالر کے درمیان مستحکم رہنے کا امکان ہے اور اگر جنگ بندی ہو جائے اور سپلائی معمول پر آ جائے تو قیمتیں 70 سے 80 ڈالر فی بیرل تک گر سکتی ہیں ۔
غیر یقینی صورتحال کی ایک بڑی وجہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی مذاکرات پر مختلف اور متضاد بیانات ہیں ۔ اگرچہ بعض اشارے سفارتی کوششوں کی امید دلاتے ہیں، سخت بیانات کشیدگی کو بڑھا دیتے ہیں ۔
امریکی صدر کی جانب سے ایران کو دیا گیا “آخری موقع” والا سخت پیغام بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے ۔ ایران نے کچھ آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے جو عالمی سپلائی کے لیے مثبت اقدام ہو سکتا تھا، مگر اس کے باوجود قیمتوں میں اضافہ رک نہیں سکا ہے ۔
جنگ کے 27 دن گزرنے کے باوجود واضح اور مؤثر جنگ بندی مذاکرات سامنے نہیں آئے، جس سے سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:عالمی منڈی میں تیل مہنگا، امریکی خام تیل 100 ڈالر سے تجاوز کر گیا
مالیاتی ادارے اس صورتحال کو عالمی سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبے کیلئے بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں ۔ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں معیشتوں پر دباؤ ڈال رہی ہیں اور عام صارفین کیلئے ایندھن مہنگا کر رہی ہیں، جس کے اثرات روزمرہ زندگی میں محسوس کیے جا رہے ہیں ۔




