پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سینیٹر مراد سعید کو عدالت کی جانب سے قید اور جرمانے کی سزا سنائے جانے کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے ان کی نااہلی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر مراد سعید کو نااہل کردیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے ایک اہم پیش رفت میں خیبر پختونخوا سے سینیٹ کی عمومی نشست پر منتخب ہونے والے مراد سعید کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا ۔۔
مزید یہ بھی پڑھیں:فری لانسرز کے لیے بڑی خوشخبری: جرمنی نے ’اسپیشل ویزا‘ پروگرام متعارف کرا دیا
مراد سعید کی نااہلی کے بعد متعلقہ نشست خالی ہو گئی ہے۔ یہ فیصلہ 25مارچ 2026 کو جاری ہونیوالے باضابطہ اعلامیے میں کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق یہ اقدام راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نمبر ایک کے سات مارچ دو ہزار چھبیس کے فیصلے کی روشنی میں اٹھایا گیا جس میں ریاست بنام عاصم رحمان وغیرہ مقدمہ کے تحت مراد سعید کو دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
عدالت کے اسی فیصلے کو بنیاد بنا کر الیکشن کمیشن نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل تریسٹھ کی متعلقہ شق کے تحت انہیں نااہل قرار دیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:حج 2026: عازمینِ حج کے لیے پاک حج ایپ پر میڈیکل فارم بھرنا لازمی قرار
الیکشن کمیشن کے اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ مراد سعید کو پہلے چوبیس جولائی دو ہزار پچیس کو خیبر پختونخوا سے سینیٹ کی عمومی نشست پر کامیاب امیدوار کے طور پر نوٹیفائی کیا گیا تھا۔۔
تاہم عدالت کی سزا کے بعد وہ اس حیثیت کے اہل نہیں رہے۔ چنانچہ انہیں فوری طور پر ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا ہے اور نشست خالی قرار دے دی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کے اجلاس میں باقاعدہ غور و خوض کے بعد کیا گیا، جس کے بعد اس کی کاپی صدرِ مملکت، وزیرِ اعظم، سینیٹ سیکریٹریٹ، صوبائی الیکشن کمشنر خیبر پختونخوا سمیت دیگر متعلقہ حکام کو ارسال کر دی گئی ہے تاکہ آئینی تقاضوں کے مطابق آئندہ کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
2024ء میں سینیٹ انتخابات کے وقت ان کے کاغذات نامزدگی پہلے مسترد اور پھر منظور ہوئے تھے، لیکن موجودہ عدالتی کارروائی کے بعد انہیں نااہل قرار دیا گیا۔




