2026 جائےگا تو مودی تخت پر نظرنہیں آئےگا،سربراہ عام پارٹی اروندکچریوال

نئی دہلی (کشمیر ڈیجیٹل)ہندوتوا کی پاکستان پر بالادستی جیسا دیوانے کا خواب دیکھنے والے مودی کے بھونپو 2026 کو پاکستان کیلئے خطرناک قرار دیتے تھے

لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے جس کی نشاندہی بھارت کے تخت شہر دِلی کے سیاستدان نے یہ بتاتے ہوئے کی ہے کہ جب 2026 ختم ہو گا، نریندر مودی بھارت کے تخت پر نظر نہیں آئے گا۔

دہیلی سے جنم لینے والی مڈل کلاس سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجری وال نے بتایا ہے کہ ’مودی 2026 کے اختتام تک وزیر اعظم کے عہدے پر نہیں ہوں گے‘۔

مزید یہ بھی پڑھیں:صدر ٹرمپ نے وزیراعظم شہبازشریف کا ٹوئٹ سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا

آج 24 مارچ 2026 کو دہلی سٹیٹ کے سابق وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجری وال نے پیش گوئی کی ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس سال کے اختتام تک اپنے عہدے پر نہیں ہوں گے۔

انڈین میڈیا کے میں آج شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق ایک تقریب کے دوران اروند کیجری وال نے کہا کہ ان کا دل کہتا ہے اور سیاسی سمجھ بوجھ یہ بتاتی ہے کہ مودی 2026 کے اختتام تک وزیر اعظم نہیں رہ پائیں گے۔

کیجری وال نے پیش گوئی کی کہ نریندر مودی اوران کے وزیر داخلہ امیت شا دونوں کا دور اقتدار ختم ہو جائے گا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر: پی ایس سی امتحان،35494امیدوارمیدان میں آگئے،شیڈول جاری

عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروِند کیجرییوال نے بتایا کہ حکمراں طبقے کا سوشل میڈیا پر عوامی بیانیے پر کنٹرول ختم ہو چکا ہے۔

جہاں پہلے حکومتی مشینری آن لائن تنقید کو دبا دیتی تھی اب وزیر اعظم مودی کو نشانہ بنانے والے منفی تبصرے اور میمز ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں۔

کیجریوال نے کہا کہ ایک وقت تھا جب مودی کے خلاف میمز بنانے پر بھی لوگوں کو جیل بھیج دیا جاتا تھا۔ آج سوشل میڈیا تنقید سے بھرا ہوا ہے جو ان کی مقبولیت میں کمی کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان ایران ،امریکہ مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار ہے،وزیراعظم شہبازشریف

اپریل سے جون 2024 مین کئی قسطوں میں ہونے والے لوک سبھا الیکشن میں مودی کی پارٹی پر انتخابی دھاندلی کا الزام دہراتے ہوئے اروند کیجریوال نے یاد دلایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی انتخابات کرپشن کے ذریعے جیت رہی ہے۔

اروند کیجری وال نے خود اپنے انتخابی حلقہ کی بھی مثال کا حوالہ دیا، جہاں انہیں غیر متوقع شکست کا سامنا کرنا پرا تھا اور بہت زیادہ انتخابی بدعنوانیاں سامنے آئی تھیں۔

اروِند کیجری وال نے بتایا کہ ان کی گرفتاری سے قبل انہیں جہاں تقریباً 1.48 لاکھ ووٹ حاصل تھےوہاں ان کی رہائی کے بعد تقریباً 42,000 ووٹ حذف کر دیئے گئے جس کے نتیجے میں وہ تقریباً 3000 ووٹوں کے معمولی فرق سے ہار گئے۔

دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے پہلے وہی نشست 30,000 ووٹوں کے فرق سے جیتی تھی۔

Scroll to Top