پاکستان کی مسلح افواج کی قیادت نے 86ویں یومِ پاکستان کے موقع پر قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اپنے خصوصی پیغام میں عزمِ نو کا اظہار کیا ہے ۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (چیف آف ڈیفنس فورسز)، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے اس اہم دن پر قوم کے نام اپنے پیغامات جاری کیے ۔
عسکری قیادت نے اپنے بیان میں کہا کہ 23 مارچ 1940 ہماری قومی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ تھا جب برصغیر کے مسلمانوں کے مشترکہ خواب کو واضح سمت ملی اور ایک آزاد ریاست کے قیام کی بنیاد رکھی گئی ۔ انہوں نے اس دن کو قوم کے ایمان، اُمید اور استقلال کی علامت قرار دیا ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستان جمہوری اقدار کے تحت ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور اسلامی اصولوں کی پاسداری جاری رکھے ہوئے ہے ۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک اپنے جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے، قومی سلامتی کو یقینی بنانے اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے مسلسل کوشاں رہے گا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:فیلڈ مارشل عاصم منیر و عسکری قیادت کی قوم کو عیدکی مبارکباد،اہم پیغام جاری
بیان میں کہا گیا کہ موجودہ حالات میں جب ملک کو دہشت گردی اور انتہاپسندی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے ، پاکستان کی مسلح افواج، عوام اور قانون نافذ کرنے والے ادارے متحد ہو کر ان خطرات کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہیں ۔
عسکری قیادت نے مزید کہا کہ افواجِ پاکستان ہر وقت تیار اور مستعد ہیں، جو ملک کی سرحدوں کے دفاع، خودمختاری کے تحفظ اور ہر قسم کی جارحیت و دہشت گردی کے خلاف داخلی امن کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں ۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق پاکستان عالمی برادری کا ایک ذمہ دار رکن ہے اور دنیا میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا ۔ قوم کے اتحاد، حوصلے اور ترقی کے عزم کو بھی اس موقع پر اجاگر کیا گیا ۔
دوسری جانب ملک بھر میں یومِ پاکستان روایتی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے ۔ دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں 31 جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے کیا گیا اور فضا “نعرۂ تکبیر” سے گونج اٹھی ۔ مساجد میں نمازِ فجر کے بعد ملکی سلامتی اور ترقی کیلئے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایران حملوں کے بعد سیکیورٹی خدشات: وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ روس منسوخ، عسکری قیادت کو مشاورت کے لیے بلا لیا
تاہم اس سال خطے کی صورتحال اور کفایت شعاری کے پیش نظر تقریبات سادہ انداز میں منعقد کی جا رہی ہیں ۔ یومِ پاکستان کی مرکزی پریڈ منسوخ کر دی گئی ہے جبکہ پرچم کشائی کی تقریب کو بھی سادگی مگر وقار کے ساتھ منعقد کیا جا رہا ہے ۔




