نیٹو اتحاد کے سینکڑوں فوجی اہلکار عراق سے یورپ منتقل

بغداد(کشمیر ڈیجیٹل)ایران کی جاری جنگ کے دوران نیٹو اتحاد نےبالآخر عراق سے اپنے فوجی اہلکاروں کو واپس بلانا شروع کردیا ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نیٹو کے اعلیٰ کمانڈر جنرل الیکسس گرینکیوچ نے کہا کہ نیٹو اتحاد نے کئی سو اہلکاروں کو عراق سے نکال کر یورپ منتقل کر دیا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:فیلڈ مارشل عاصم منیرکا کرم کادورہ،عیدالفطر فوجی جوانوں کے ساتھ منائی

انہوں نے کہا کہ یہ اہلکار نیٹو کے سیکورٹی ایڈوائزری مشن کا حصہ ہیں جو 2018 میں عراقی دفاعی اور سیکورٹی حکام کو مشورہ دینے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ عراق میں نیٹو مشن کو ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور وہ محفوظ ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ مشن مشترکہ فورس کمانڈ نیپلز سے اپنا کام جاری رکھے گا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:چیک ریپبلک: اسرائیلی اسلحہ فیکٹری کو اُڑا دیا، کئی عمارتیں نذر آتش

واضح رہے کہ یہ اقدام عراق میں برطانوی، فرانسیسی اور اطالوی اڈوں پر ایرانی حملوں کے بعد سامنے آیا ہے، جب تہران نے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں ہمسایہ خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملے تیز کر دیئے۔

مزید برآں اسرائیل کی جانب سے ایران میں واقع قدرتی گیس فیلڈ پر بمباری کے بعد خلیجی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سکیورٹی وجوہات کی بناءپر عمران خان عید کی نماز ادانہ کرسکے،جیل ذرائع

علاوہ ازیں میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا مشرق وسطیٰ میں 2,500 اضافی میرینز بھی بھیج رہا ہے جس کے ساتھ کم از کم ایک بربحری حملہ آور جہاز بھی ہے۔

Scroll to Top