واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے خلاف جاری امریکا-اسرائیل جنگ کی سنگین صورتحال کے باعث انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ سے رواں ماہ کے آخر میں ہونے والی طے شدہ ملاقات فی الحال ملتوی کر دی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ بیجنگ کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ملاقات کا وقت دوبارہ طے کیا جا رہا ہے، جس پر چینی قیادت نے بھی اتفاق کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا دورہ بیجنگ 31 مارچ سے 2 اپریل تک شیڈول تھا، جسے اب موجودہ حالات کے تناظر میں ممکنہ طور پر پانچ ہفتوں کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کے لیے بڑا خطرہ قرار دی گئی طاقتوں میں پاکستان کا نام بھی شامل، امریکی انٹیلی جنس رپورٹ منظرعام پر آ گئی
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کے تیسرے ہفتے میں داخل ہونے اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث ان کا واشنگٹن میں موجود رہنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کی وجہ سے وہ ملک میں ہی رہنا چاہتے ہیں کیونکہ اس وقت ان کی یہاں موجودگی لازمی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے اس حوالے سے بتایا کہ چین نے اس تاخیر کو قبول کر لیا ہے کیونکہ وہ امریکی صدر کے فیصلے کی وجوہات اور علاقائی ترجیحات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
واضح رہے کہ اس اہم ملاقات میں تجارتی ٹیرف، تائیوان کے معاملے اور چینی برآمدات پر تفصیلی بات چیت متوقع تھی، تاہم حالیہ جنگ نے دونوں ممالک کی ترجیحات بدل دی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس موقع پر اشارہ دیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے چین کا تعاون چاہتے ہیں، جو ایران کی جانب سے ناکہ بندی کے باعث عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے بند ہو چکی ہے۔ چونکہ ایران چین کا بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اس لیے صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ بیجنگ تہران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے اس بحران کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔




