ایرانی نیوز ایجنسی نے ایران کے سکیورٹی چیف علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق کردی ہے۔
ایران کی نیم سرکاری ایجنسی مہر نیوز کے ذریعہ جاری کردہ ایک بیان میں ملک کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل نے علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔
اسرائیل کی جانب سے منگل کی صبح دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس نے انہیں ٹارگٹڈ حملوں میں شہید کیا گیاہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی سکیورٹی چیف علی لاریجانی کو ٹارگٹ کیا گیا، اسرائیل کا دعویٰ، ایران کی تردید
سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کا کہنا تھا کہ علی لاریجانی نے ایران اور اسلامی انقلاب کی سربلندی کے لیے زندگی بھر جدوجہد کرنے کے بعد بالاآخر اپنی دیرینہ خواہش(شہادت) کو پورا کیا۔
حق کی دعوت پر لبیک کہا اور خدمت کے محاذ میں فخریہ طور پر شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔
علی لاریجانی کے ایکس اکائونٹ سے بھی علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق کی گئی ہے۔
ایکس اکائونٹ پر بتایا گیا ہے کہ علی لاریجانی کے بیٹے مرتضیٰ بھی شہید ہو گئے ہیں۔
ایکس پوسٹ میں کہا ہے کہ ایک بندہ خدااپنے رب کے پاس شہید کے طور پر پہنچ گیا ہے۔
امریکا کو للکارنے والے علی لاریجانی کون تھے۔؟
ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت میں سب سے نمایاں مقام رکھنے والے علی لاریجانی کو بے خوف نڈر اور بہادر رہنماؤں میں شمار کیا جاتا تھا۔
آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد امریکا کو للکارنے والے علی لاریجانی کو اسرائیل نے ہٹ لسٹ میں سرفہرست رکھا ہوا تھا۔ اس کے باوجود غیور و دلیر رہنما عوامی مقامات پر بھی نظر آتے تھے۔
علی لاریجانی اسرائیلی و امریکی قتل کی دھمکیوں کے باوجود چند ہی روز قبل یوم القدس کی ریلی میں ہزاروں شرکا کے ہمراہ ہاتھ ملاتے اور سیلفیاں لیتے نظر آئے۔ وہ مطمئن، پُرعزم اور بے خوف تھے۔
یہ بھی پڑھیں :ایرانی قوم ٹرمپ کی کھوکھلی دھمکیوں سے ڈرنے والی نہیں، علی لاریجانی
علی لاریجانی سیاست کے میدان کے بھی شہہ سوار تھے۔ طویل عرصے تک پارلیمنٹ کے اسپیکر بھی رہے اور ساتھ ہی ایران کے جوہری مذاکرات اور قومی سلامتی کے معاملات میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی اسرائیلی اور امریکی حملے میں شہادت پر علی لاریجانی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے دشمنوں کو اس عمل پر پچھتانے پر مجبور کردیں گے۔
بعد ازاں ان کے ایک خفیہ ٹھکانے پر حملہ کیا گیا جہاں وہ مبینہ طور پر اپنے بیٹے کے ساتھ موجود تھے۔
عراق میں پیدا ہوئے
علی لاریجانی 1958 میں عراق کے شہر نجف میں پیدا ہوئے۔ بعد میں وہ ایران منتقل ہوئے اور تہران میں تعلیم حاصل کی۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد انہوں نے ریاستی اداروں میں تیزی سے ترقی کی اور مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے۔
اہم سرکاری عہدوں پر فائز رہے
اپنے طویل سیاسی کیریئر کے دوران علی لاریجانی کئی اہم عہدوں پر رہے، وزیر ثقافت بنے، سرکاری نشریاتی ادارے کی سربراہی کی ، ایک دہائی تک پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے اور ایران کے چیف نیوکلیئر مذاکرات کار کی کلیدی ذمہ داری بھی نبھائی۔
بطور چیف نیوکلیئر مذاکرات کار 2005 سے 2007 کے دوران انہوں نے عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔
2015 کے جوہری معاہدے کی حمایت بھی کی جسے عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا گیا تھا۔
ایرانی قومی سلامتی کونسل میں اہم کردار
2025 میں انھیں دوبارہ ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل یعنی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکرٹری مقرر کیا گیا۔ اس عہدے کے بعد وہ جنگ کے دوران تہران کی قیادت میں مرکزی شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔
امریکا نے گرفتاری پر انعام بھی رکھا
امریکا نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک اعلیٰ شخصیات کے بارے میں معلومات دینے والوں کے لیے ایک کروڑ ڈالر تک انعام کا اعلان بھی کیا تھا جس میں علی لاریجانی کا نام بھی شامل بتایا جاتا ہے۔
علی لاریجانی کے خاندان کی سیاسی اہمیت
علی لاریجانی کا خاندان بھی ایران کی سیاست میں خاص اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ ان کے بھائی صادق لاریجانی بھی اسلامی جمہوریہ کے اہم ترین عہدوں پر فائز رہے ہیں۔
صادق لاریجانی اس وقت مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ ہیں جو ایران کا ایک اہم ادارہ ہے اور پارلیمنٹ اور آئینی نگران ادارے گارڈین کونسل کے درمیان اختلافات کی صورت میں آخری فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔




