پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارت کے حالیہ بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے مضحکہ خیز، بلاجواز اور شدید منافقت پر مبنی قرار دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف عائد کیے گئے الزامات نہ صرف بے بنیاد ہیں بلکہ حقیقت کو مسخ کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش بھی ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور معاون مراکز کے خلاف کیے گئے اقدامات مکمل طور پر قانونی، ہدف شدہ اور بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کارروائیاں پاکستان کی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر تھیں کیونکہ سرحد پار سے دہشت گرد عناصر پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور معاونت کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: دی ہنڈرڈ لیگ میں ابرار احمد کے معاہدے پر بھارتی میڈیا نےنیا شوشہ چھوڑدیا
دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت خود طویل عرصے سے خطے میں دہشت گردی اور عدم استحکام کو ہوا دینے میں ملوث رہا ہے اور افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے میں بھارت کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ترجمان نے انکشاف کیا کہ بعض دہشت گرد گروہ جیسے ’فتنہ الخوارج‘ اور ’فتنہ الہندوستان‘ کو بھارتی سرپرستی حاصل رہی ہے اور انہیں پاکستان کے خلاف تخریبی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف کارروائیوں اور ان کی تباہی پر بھارت کی مایوسی بالکل قابلِ فہم ہے کیونکہ ماضی میں یہی عناصر پاکستان کے خلاف استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق بھارت کا خطے میں کردار تعمیری نہیں بلکہ تخریبی رہا ہے اور وہ مختلف ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ بھارت خود انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برخلاف غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے اور وہاں گزشتہ کئی برسوں سے ریاستی جبر، ماورائے عدالت اقدامات اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی مسلسل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں ہندوتوا نظریے کے فروغ کے بعد اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اسلاموفوبیا کو ریاستی سطح پر بڑھاوا دیا جا رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر بھی تشویش پیدا ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت کو بڑا دھچکا، پانچواں خلائی مشن بھی ناکام؛ 8 منٹ بعد ہی خرابی کا شکار
ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت ماضی میں پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکیاں بھی دے چکا ہے اور علاقائی معاہدوں کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی کوششیں کرتا رہا ہے جو بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہے۔ دفتر خارجہ نے زور دیا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی پالیسی ترک کرے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر مناسب اقدام کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ بیان کے اختتام پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے اور پاکستان خطے میں امن اور تعاون کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔
🔊PR No.6️⃣8️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Statement by the Spokesperson in Response to Media Queries Regarding Pakistan’s Response to the Statement Issued by the Ministry of External Affairs of India
🔗⬇️ pic.twitter.com/dbJ2k9thNJ— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) March 14, 2026




