وفاقی حکومت نے ملک میں جاری کفایت شعاری مہم اور ایندھن کی بچت کے اقدامات کے تحت اعلیٰ سرکاری افسران کی تنخواہوں میں عارضی کٹوتی کا ایک بڑا فیصلہ کر لیا ہے، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
اس فیصلے کے مطابق حکومت نے مختلف تنخواہوں کے حامل افسران کے لیے کٹوتی کے مختلف تناسب مقرر کیے ہیں تاکہ سرکاری اخراجات میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکے۔ نوٹیفکیشن کی تفصیلات کے مطابق ایسے افسران جو ماہانہ 3 لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک تنخواہ وصول کر رہے ہیں، ان کی مجموعی تنخواہ سے دو ماہ کے لیے 5 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔ اسی طرح 10 لاکھ سے 20 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے افسران کی تنخواہ میں 15 فیصد جبکہ 20 لاکھ سے 30 لاکھ روپے تنخواہ لینے والے افسران کی تنخواہ سے 25 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔ وہ اعلیٰ حکام جن کی ماہانہ تنخواہ 30 لاکھ روپے سے زائد ہے، ان کی مجموعی تنخواہ سے سب سے زیادہ یعنی 30 فیصد کٹوتی کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 5 سے 30 فیصد کٹوتی کا فیصلہ
حکومت نے نوٹیفکیشن میں واضح کیا ہے کہ اس کٹوتی کے نتیجے میں جو رقم حاصل ہوگی، اسے عوامی سہولت اور فلاحی منصوبوں کے لیے استعمال میں لایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے یہ تمام رقم “وزیراعظم آسٹیرٹی فنڈ 2026” میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس پورے عمل کی نگرانی کے لیے سیکرٹری خزانہ کی سربراہی میں ایک خصوصی ذیلی کمیٹی بھی بنا دی گئی ہے، جس میں تمام صوبائی مالیاتی سیکرٹریز بھی شامل ہوں گے جو رقم کی منتقلی کا طریقہ کار وضع کریں گے۔
کفایت شعاری کے ان اقدامات کے ساتھ ساتھ حکومت نے ایندھن کی بچت کے حوالے سے بھی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سول آرمڈ فورسز کو ورک فرام ہوم اور چار روزہ ورک ویک کی پالیسی سے استثنیٰ حاصل ہوگا اور ان اداروں کی گاڑیوں پر بھی عام پابندیاں لاگو نہیں ہوں گی۔ مزید برآں، تمام وفاقی اداروں اور صوبائی حکومتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ان اقدامات پر اپنی کارکردگی کی ہفتہ وار رپورٹ پیش کریں۔ ڈیجیٹل نظام کو فروغ دینے کے لیے ای آفس کے استعمال کی خاطر تمام وزارتوں کو چار روز کے اندر اے پی این ڈیوائسز فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور تمام ڈویژنز کو فوری طور پر اپنی ضرورت کے مطابق ڈیوائسز کی ڈیمانڈ وزارت آئی ٹی کو بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے۔




