ایران میں جاری کشیدگی اور سپلائی چین متاثر ہونے کے باعث ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایل پی جی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں گھریلو صارفین اور چھوٹے کاروبار شدید پریشانی کا شکار ہوگئے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق کراچی میں فی کلو لیکوڈ پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمت میں 30 روپے کا بڑا اضافہ کردیا گیا ہے، جس کے بعد شہر میں ایل پی جی 330 روپے فی کلو میں فروخت ہورہی ہے۔ قیمتوں میں اچانک اضافے کے باعث شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ ہوٹلوں، چائے خانوں اور دیگر چھوٹے کاروباروں کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔
واضح رہے کہ ایل پی جی کی سرکاری قیمت 226 روپے فی کلو مقرر کی گئی تھی، تاہم مارکیٹ میں اس وقت گیس مقررہ نرخ سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت کی جارہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ اور مارکیٹ قیمت میں اتنا بڑا فرق انتظامی نگرانی پر سوالات کھڑے کررہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوہاٹ میں تیل و گیس کے بڑے ذخائر دریافت، نئے سال کی سب سے بڑی کامیابی
ایل پی جی ڈیلرز اور مارکیٹ سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ایران سے آنے والی سپلائی میں کمی اور خطے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باعث درآمدی لاگت میں اضافہ ہوا ہے، جس کا براہ راست اثر مقامی مارکیٹ پر پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سپلائی کی صورتحال جلد بہتر نہ ہوئی تو قیمتوں میں مزید اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور سرکاری نرخ پر فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ملک کے کئی علاقوں میں گیس کی کمی کے باعث ایل پی جی گھریلو استعمال کا اہم ذریعہ بن چکی ہے، اس لیے اس کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی عوامی زندگی پر بڑا اثر ڈالتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت پالیسی اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ دنوں میں صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔




