پیٹرول

پیشگی منصوبہ بندی اور انتظامات نہ کیے ہوتے تو آج پیٹرول 375 روپے فی لٹر ہونا تھا :وزیر دفاع

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور ایران سے متعلق صورتحال نے عالمی معیشت کو دباؤ میں ڈال دیا ہے، جس کے باعث عالمی تیل منڈیوں میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہو گئی ہے ۔

خواجہ آصف اپنے بیان میں کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، بالخصوص ایران اور دیگر ممالک کے درمیان تناؤ، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل اور تجارت کو متاثر کر رہا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت پہلے سے ضروری اقدامات اور منصوبہ بندی نہ کرتی تو پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 375 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی تھی ۔

خواجہ آصف کے مطابق آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستوں کی ممکنہ بندش کے خدشات بھی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو تیزی سے اوپر لے جا رہے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں جو اضافہ کیا ہے وہ ایک مشکل مگر ناگزیر فیصلہ تھا تاکہ ملکی معیشت پر مزید دباؤ سے بچا جا سکے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیر دفاع خواجہ آصف نے عوام سے اہم اپیل کر دی

واضح رہے کہ حکومت نے گزشتہ روز پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے اضافہ کیا، جس کے بعد عوامی سطح پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور مختلف حلقوں کی جانب سے اس فیصلے پر تنقید بھی کی گئی ۔

دوسری جانب وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں آئل سیکٹر ایک باقاعدہ نظام کے تحت چلایا جاتا ہے اور قیمتوں کے تعین میں متعدد عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے ۔

ان کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کے قوانین کے تحت آئل کمپنیوں کے لیے کم از کم بیس دن کا تیل ذخیرہ رکھنا لازمی ہوتا ہے ۔

خرم شہزاد کا مزید کہنا تھا کہ تیل کی درآمد کے عمل میں صرف خریداری ہی نہیں بلکہ جہاز رانی، انشورنس اور دیگر لاجسٹک اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان افغانستان میں فضائی کارروائی سے نہیں ہچکچائے گا، خواجہ آصف

اس کے علاوہ تیل کہاں سے خریدا جا رہا ہے اور اسے پاکستان تک پہنچانے میں کتنا وقت اور خرچ آتا ہے، یہ تمام عوامل بھی قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔

Scroll to Top