جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں فتنہ الخوارج نے ایک عام شہری کے گھر پر کواڈ کاپٹر کے ذریعے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 12 افراد شدید زخمی ہو گئے ۔ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں ۔
اطلاعات کے مطابق فتنہ الخوارج اس واقعے کو بنیاد بنا کر سوشل میڈیا پر پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا پھیلانے کی کوشش کر رہے تھے ۔
حملے کے فوراً بعد شر پسند عناصر نے یہ جھوٹی کوشش کی کہ اسے سکیورٹی فورسز کے ساتھ جوڑا جائے، تاہم مقامی لوگ اور گواہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اصل ذمہ دار خوارج ہی ہیں ۔
علاقہ مکینوں اور حکام کا کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج پہلے بھی اسی طرح کے جھوٹے بیانیے اور پروپیگنڈے کے ذریعے ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کر چکے ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاک فوج کا کرم سیکٹر میں افغان طالبان کے خلاف بڑا آپریشن
ان کا مقصد عام شہریوں کو نشانہ بنا کر ریاست اور عوام کے درمیان بداعتمادی اور انتشار پیدا کرنا ہے ۔
مقامی انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے پر بھروسہ نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے فراہم کردہ معلومات پر انحصار کریں ۔
حکام نے کہا کہ اس حملے کے بعد علاقے میں اضافی سیکورٹی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ شہری محفوظ رہ سکیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے کو بروقت روکا جا سکے ۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں عام شہریوں کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانے کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کے خلاف منفی تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:‘آپریشن غضب للحق’پاک فوج کی بڑی کارروائی: قندھار میں افغان طالبان کا 205 کور بریگیڈ ہیڈکوارٹر تباہ
عوام سے تاکید کی گئی ہے کہ وہ حالات کو تحمل سے دیکھیں اور کسی بھی افواہ یا جھوٹی خبر پر دھیان نہ دیں ۔




