جی ایچ کیو حملہ کیس: عمر ایوب اور زرتاج گل سمیت 47 ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزا

راولپنڈی: انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 9 مئی کے پرتشدد واقعات کے دوران جی ایچ کیو پر ہونے والے حملے کے مقدمے کا اہم فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے مقدمے میں نامزد 47 اشتہاری ملزمان کو جرم ثابت ہونے پر 10، 10 سال قید اور فی کس 5، 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے سزا کے ساتھ ساتھ ان تمام ملزمان کی جائیدادیں بھی فوری طور پر ضبط کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد، گواہوں کے بیانات اور تفتیشی رپورٹوں سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہوئی کہ ملزمان 9 مئی کے پرتشدد واقعات اور جی ایچ کیو حملے میں براہِ راست ملوث تھے یا انہوں نے اس کی منصوبہ بندی اور سازش میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں:جی ایچ کیو حملہ کیس ، بانی پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف جیل ٹرائل بحال،نوٹیفکیشن جاری 

عدالت نے اپنے فیصلے میں ریمارکس دیے کہ ملزمان نہ صرف جی ایچ کیو پر حملے کے ذمہ دار پائے گئے بلکہ وہ مختلف مقامات پر ہنگامہ آرائی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات میں بھی ملوث رہے۔ عدالت کے مطابق ایسے اقدامات ریاستی اداروں پر حملے اور ملک کے امن و امان کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں، جن پر سخت قانونی کارروائی ناگزیر تھی۔

سزا پانے والے ملزمان میں پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت اور اہم سیاسی شخصیات شامل ہیں۔ ان میں عمر ایوب، زرتاج گل، مراد سعید، شبلی فراز، حماد اظہر، کنول شوذب اور راشد شفیق کے نام نمایاں ہیں۔ مزید برآں، شہباز گل، ذلفی بخاری، محمد احمد چٹھہ، رائے حسن نواز اور رائے محمد مرتضیٰ کو بھی عدالت نے سزا کا مستحق قرار دیا ہے۔ فیصلے میں شوکت علی بھٹی، عثمان سعید بسرا اور اعجاز خان جازی کو بھی قید اور جرمانے کا حکم سنایا گیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق، تمام 47 ملزمان کو 5، 5 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا، اور عدم ادائیگی کی صورت میں انہیں مزید قید کی سزا بھگتنا پڑے گی۔ عدالت نے قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے ان کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم بھی برقرار رکھا ہے۔ یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو ملک گیر احتجاج کے دوران راولپنڈی میں واقع فوج کے مرکزی ہیڈ کوارٹر (GHQ) کے اطراف شدید ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آئے تھے، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحقیقات کا آغاز کر کے مقدمات درج کیے تھے۔ اس فیصلے کو 9 مئی سے متعلقہ قانونی کارروائیوں میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: آئی جی آزاد کشمیر کا عید سے قبل جوانوں کو بڑا تحفہ، بڑے پیمانے پر ترقیوں کا اعلان

Scroll to Top