پشاور(کشمیر ڈیجیٹل)پاکستان نے بگرام میں اپنا ٹارگٹ حاصل کرلیا، طالبان رجیم کا ایمونیشن سپورٹ کا انفرا اسٹرکچر تباہ کردیا۔
سکیورٹی ذرائع نے آپریشن کی تصدیق کر دی۔ سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے بگرام میں اپنا ٹارگٹ حاصل کرلیا، افغان طالبان رجیم کا ایمونیشن سپورٹ کا انفرااسٹرکچر تباہ کردیا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان طالبان رجیم ملوث ہے۔ افغان طالبان ریجیم کو سمجھانے کی تمام کوششیں ناکام ہونے کے بعد اب آپریشن غضب لِلحق شروع کیا گیا ہے جو مکمل کامیابی تک جاری رہے گا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں کارروائیاں مقاصد کے حصول تک جاری رہیں گی، سکیورٹی ذرائع
آپریشن غضب للحق افغان عوام کے خلاف نہیں صرف دہشت گردی کے خلاف ہے، افغانستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا جارہا ہے۔ افغانستان کے اندر آپریشن کے دوران سویلینز کو کہین بھی ٹارگٹ نہیں کیاجارہا۔۔
پاک فوج کے بگرام ائیر بیس پر آپریشن غضب لِلحق کی کامیابیاں۔۔
سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی کہ پاکستان نے بگرام میں اپنا ٹارگٹ حاصل کرلیا، افغان طالبان کی ایمونیشن سپورٹ کا انفرا اسٹرکچر تباہ کردیا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کی اب تک کی ائیر سٹرائیکس میں فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کی درمیانہ درجہ کی لیڈر شپ ماری جا چکی ہے۔
28 فروری کے بعد سے افغان طالبان رجیم کے اڈوں پر 50 سے زائد سٹرائیکس کی جا چکی ہیں۔
پاکستان افغانستان میں ٹی ٹی پی کی 226 چیک پوسٹوں کو تباہ کرچکا ہے اور اب تک 36 چیک پوسٹوں پر قبضہ کر چکا ہے۔ سکیورٹی ذرائع نے اضح کیا کہ آپریشن غضب للحق کی سپورٹ میں پاکستان کے عوام اور حکومت متحد ہیں۔
اس آپریشن کی مکمل کامیابی کے لئے سب کو اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا، ہمارا ایک ہی مقصد اور ایک ہی مطالبہ ہےکہ افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں استعمال نہ کرے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 22 دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں کام کررہی ہیں، باجوڑ، ترلائی مسجد اور وانا کے واقعات میں افغان طالبان ملوث ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:محکمہ شاہرات میں کرپشن، نئی تعمیر شاہراہ سرینگر ٹوٹ پھوٹ کا شکار،گہرے کھڈے
سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل کرنا ہوگا، سیاست سے بالاتر ہو کر اس آپریشن کو کامیاب بنانا ہوگا، خیبرپختونخواپولیس کو سیاسی طور پر آزاد کردیا جائے تو وہ اکیلی ہی دہشت گردی کے خلاف کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔
پاکستان نے افغانستان کو دو ٹوک جواب دیا ہے کہ ٹی ٹی پی کی لیڈرشپ ہمارے حوالےکرو۔ سکیورٹی ذرائع نے ایک بار پھر واضح کیا کہ تیراہ میں کوئی لارج اسکیل آپریشن نہیں کر رہے وہاں صرف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کررہے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ ہندوستان کی سرپرستی اور افغانستان رجیم کے باعث پاکستان میں دہشت گردی ہورہی ہے، افغان طالبان رجیم کے فیصلے کوئی اور کر رہا ہے۔ ذرائع نے کہا کہ پاکستان کا دفاعی بجٹ ایران سے بھی کم ہے لیکن ملٹری پاور دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مہنگائی سے تنگ شہریوں کیلئے پہلی سولرکار متعارف
سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ ہم نےکسی بیان پر کارروائی نہیں کی بلکہ اپنا ٹارگٹ حاصل کیا، اہداف کےحصول تک افغانستان میں ٹارگٹڈ حملے اور کارروائیاں کرتے رہیں گے۔
سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ “”افغانستان ایمپائرز کا قبرستان” نہیں “پلے گراؤنڈ ہ”ے!”، ایمپائرز افغانستان آتے ہیں اور اپنا کھیل کھیلتے ہیں۔ اب ٹی ٹی پی سے دھمکیوں کے پرچے جاری کروائے جارہےہیں، افغانستان ماسٹر پراکسی بن گیا ہے۔
افغانستان میں ریجیم چینج؟؟ سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ ہمارا افغانستان کوفتح کرنےکاکوئی ارادہ نہیں، افغان عوام خود رجیم چینج کا خود فیصلہ کریں۔ افغانستان میں کس کی حکومت آتی ہے، ہمیں اس سےکوئی سروکار نہیں، ہم دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔




