جنیوا میں 4 مارچ 2026 کو انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کی بریفنگ پر اقوام متحدہ کی 61 ویں انسانی حقوق کونسل میں عام بحث کے دوران، کشمیری نمائندوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر فوری بین الاقوامی کارروائی کا متفقہ مطالبہ پیش کیا ہے۔ وفد نے یک زبان ہو کر مقبوضہ خطے میں بلا روک ٹوک رسائی اور کشمیری عوام کی خواہشات پر مرکوز پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔
انسانی حقوق کی پامالیاں اور ڈیجیٹل محاصرہ:
ورلڈ مسلم کانگریس کے الطاف حسین وانی نے خطے میں صوابدیدی حراستوں، جبری گمشدگیوں اور دہشت گردی کے قوانین کے غلط استعمال سے اختلاف رائے کو دبانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے منظم نگرانی اور ڈیجیٹل محاصرے کی مذمت کرتے ہوئے، او ایچ سی ایچ آر (OHCHR) کی نگرانی کو تیز کرنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دینے پر زور دیا۔ وفد نے پرویز شاہ کی جبری گمشدگی جیسے مخصوص واقعے کو بحران کی علامت قرار دیتے ہوئے شفاف تحقیقات اور سزا سے استثنیٰ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ کشیدگی: امریکی فوجی اڈوں پر حملوں میں 160 امریکی ہلاک، ایرانی فوج کا دعویٰ
تشدد کے اعداد و شمار اور جوابدہی کا مطالبہ:
انٹرنیشنل ایکشن فار پیس اینڈ سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ کے سردار امجد یوسف خان نے 2019 کے بعد سے تشدد کے حیرت انگیز اعداد و شمار پیش کیے، جن میں 1,050 سے زائد ہلاکتیں اور ہزاروں گرفتاریاں شامل ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی رسائی پر سخت پابندیوں کو اجاگر کیا اور ہائی کمشنر پر زور دیا کہ وہ جوابدہی کے خلا کا جائزہ لینے کے لیے او ایچ سی ایچ آر کی تیسری رپورٹ جاری کریں۔ شیخ عبدل متین نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اس اہم مباحثے میں حصہ لیا۔
خواتین کے خلاف جنسی تشدد اور صدمات:
انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین کی نمائندگی کرتے ہوئے شمیم شاول نے صنفی بنیادوں پر سنگین بحران پر توجہ مرکوز کی۔ انہوں نے کشمیری خواتین کے خلاف دہائیوں سے جاری جنسی تشدد، بیوگی اور شدید ذہنی صدمے کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے سزا سے استثنیٰ کے ماحول کی مذمت کی اور خواتین کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ایک مخصوص رپورٹ کی فوری اشاعت کا مطالبہ کیا۔




