چترال (کشمیر ڈیجیٹل) افغان لاشوں کی حوالگی کے حوالے سے افغان مشیران اور پاکستان ارندو سیکٹر کے ملک مشیران کے درمیان اہم میٹنگ ہوئی۔
ذرائع کے مطابق ایم آئی چترال نے افغان مشیران اور پاکستان ارندو سیکٹر کے ملک مشیران کے درمیان ٹی ٹی اے اہلکاروں کی لاشوں کی حوالگی اور لوکل سطح پر سیز فائر کے حوالے سے جرگہ،فلیگ میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔
فلیگ میٹنگ میں چترال سکاؤٹس کی طرف سے رکھی شرائط کو تسلیم کروایا گیا جس کے بعد لاشوں کی حوالگی کی جائے گی ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:افواج پاکستان کا خوف،افغان طالبان قیادت بامیان فرار ہوگئی،سکیورٹی ذرائع
تفصیلات کے مطابق چترال کے علاقے ارندو میں مقامی عمائدین اور افغان عمائدین کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد مقامی سیز فائر (جنگ بندی) کا معاہدہ طے پا گیا ہےاور ہلاک ہونے والے افغان طالبان کی لاشیں افغانستان منتقل کر دی گئی ہیں۔
اس اہم پیش رفت کے حوالے سے 206 ایم آئی چترال کی جانب سے ایک فلیگ میٹنگ (جرگہ) کا انعقاد کیا گیا جس میں افغان مشیروں اور 141ونک کی طرف سے مقامی مشران شرکت کی۔
جرگے میں افغان طالبان کی لاشوں کے تبادلے اور مقامی سطح پر فائر بندی کے انتظامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مذاکرات کے دوران چترال اسکاؤٹس کی جانب سے پیش کی گئی تمام شرائط کو افغان مشیروں نے تسلیم کر لیا۔ طے پانے والے معاہدے کے مطابق ہلاک شدگان کی لاشیں حوالے کر دی گئی ہیں، تاہم ان سے برآمد ہونے والا تمام اسلحہ اور گولہ بارود پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی تحویل میں ہی رہے گا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ کشمیر نئی بغاوت کے دھانے پر،بٹمالو، ایچ ایم ٹی اور نوگام کے عوام بھارت کیخلاف بپھر گئے
معاہدے میں یہ بھی طے پایا ہے کہ مقامی سطح پر مکمل سیز فائر رہے گا اور مقامی رہائشیوں کو ان خالی کردہ علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں ہوگی جہاں سے وہ نقل مکانی کر چکے ہیں۔ مزید برآں، کسی بھی جنگی صورتحال یا اعلیٰ حکام کے حکم کی صورت میں، افغان سائیڈ کسی بھی کارروائی سے قبل پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو آگاہ کرنے کی پابند ہوگی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ کشمیر نئی بغاوت کے دھانے پر،بٹمالو، ایچ ایم ٹی اور نوگام کے عوام بھارت کیخلاف بپھر گئے
معاہدے کی تکمیل پر افغان طالبان کے 5 اہلکاروں کی لاشیں افغان جرگہ مشیروں کے حوالے کر دی گئیں۔
اس موقع پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے قبضے میں لیے گئے اسلحے کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں جس میں 2 ایل ایم جی، 2 ایس ایم جی، ایک آر پی جی-07، ایک موڈیفائیڈ جی-3 رائفل، دوربین، ہتھکڑیاں، بھری ہوئی میگزینز اور بڑی مقدار میں مختلف اقسام کے راؤنڈز اور فرسٹ ایڈ کٹ شامل ہیں۔
اس اہم فلیگ میٹنگ میں پاکستان کی نمائندگی قاری احمد فقیر، مہراب گل، عبدالکبیر، فضل اکبر اور مولانا ولی محمد نے کی جبکہ افغان فورسز کی جانب سے حاجی معتبر، حاجی عثمان، حبیب رسول، جندولہ خان، جمعہ رحمان، مولانا علی رحمان اور حاجی گلاب سمیت دیگر مشیران شریک ہوئے۔




