افواج پاکستان کا خوف،افغان طالبان قیادت بامیان فرار ہوگئی،سکیورٹی ذرائع

راولپنڈی (کشمیر ڈیجیٹل) پاکستان کی جانب سے افغان طالبان قیادت کی جارحیت کےجواب میں بھرپور کارروائیاں جاری ہیں ۔

سکیورٹی حکام کے مطابق بہادری کے قصے ، سوپر پاورز کو ہرانا ، پاکستان کی مدد سے ہی ممکن تھا ،روایتی جنگ میں پاک فوج کو ہرانا اتنا آسان نہیں ۔۔

افغان طالبان کو دھیرے دھیرے آٹے دال کے بھائوکا پتہ چلنے لگا۔خبروں کے مطابق پاکستانی فوج کے حملوں کے خوف کے باعث افغان طالبان کی لیڈر شپ دم دبا کر بھاگ کے صوبہ بامیان میں چھپ گئی ۔

فتنہ الخوارج کے چند بد معاشوں کو عام عوام میں چھپا کر افغان طالبان پاک فوج کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کردھماکے تو کر سکتے ہیں مگر جنگ جیت نہیں سکتے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بہادر افواج نےبھارت کو منہ توڑ جواب دیکر معرکۂ حق تاریخی تزویراتی فتح میں بدل دیا،صدر مملکت

کیونکہ پاک فوج عام عوام پرحملہ نہیں کرتی مگر روایتی جنگ میں پاک فوج کو ہرانا اتنا آسان نہیں ۔

ذرائع کے مطابق بامیان صوبہ میں افغان طالبان کے کئی اعلیٰ عہدیداران خوف کے مارے بھاگ نکلے اور پانچ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بامیان منتقل ہو گئے۔

یاد رہے یہ واضح طور پر پاکستان کی مؤثر فضائی اور زمینی کارروائیوں کے خوف کی وجہ سے ہوا، جس نے طالبان قیادت کو دم دبا کر بھاگنے پر مجبور کیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر سمیت ایران میں پھنسے 183 طلباء وطالبات کو بحفاظت کوئٹہ پہنچادیا

مقامی ذرائع کے مطابق پانچوں ہیلی کاپٹر اب بھی بامیان ایئرپورٹ پر موجود ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ طالبان قیادت خوف کا شکار ہے۔

یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ افغان طالبان کی قیادت دباؤ، خطرے اور مؤثر حملوں کے سامنے کس قدر کمزور ہے۔ زمین پر لڑائی کے میدان میں یا فضائی خطرات کے سامنے ان کی ہمت جواب دے گئی، اور وہ عوامی یا عسکری چیلنج کا سامنا کرنے کے بجائے دم دبا کر بھاگنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ کشمیر نئی بغاوت کے دھانے پر،بٹمالو، ایچ ایم ٹی اور نوگام کے عوام بھارت کیخلاف بپھر گئے

افغان طالبان کا بامیان فرار ہونا پاکستان کی عسکری برتری کو واضح کرتا ہے اور یہ کہ مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی کے سامنے طالبان کی نہ تو جرات باقی ہے اور نہ ہی ان کی محفوظ پناہ گاہیں۔

Scroll to Top