طالبان رجیم کے شخصیت سیکٹر کی دو چیک پوسٹوں پر پاک فوج کا قبضہ ،پاکستانی پرچم لہرا دیا، افغان طالبان مورچے چھوڑ کر فرار

آپریشن غضب لِلحق کے دوران پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ایک انتہائی اہم معرکے کے بعد افغان طالبان کی ‘خالی وال’ پوسٹ پر مکمل قبضہ کر لیا ہے۔

148 اے ڈی (148 AD)، ایس او جی (SOG) اور 7 ڈویژن کے دستوں نے 27 فروری کو موصول ہونے والے احکامات کے بعد آدھی رات کو اس چوکی پر بھرپور حملہ کیا۔ آرٹلری، ٹینکوں، اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل (ATGM) اور مارٹرز کی شدید اور درست گولہ باری کے نتیجے میں افغان طالبان کے اہلکار اپنی پوزیشنز چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔

کپتان مزمل کی قیادت میں کیے گئے اس کامیاب زمینی حملے کے دوران 6 سے 8 افغان طالبان اہلکار ہلاک اور 9 سے 10 زخمی ہوئے۔ فرار ہونے والے اہلکاروں کو بھی پاکستانی فورسز نے مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔ قبضے کے بعد چوکی پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرا دیا گیا ہے۔

تلاشی کے عمل کے دوران چوکی سے بڑی مقدار میں سامان اور اسلحہ برآمد ہوا ہے، جس میں ایک عدد ہائی لکس ڈبل کیبن گاڑی، سی جی 125 موٹر سائیکل، افغان طالبان کی وردیاں، وائرلیس سیٹس (Motorola)، اور اہم دستاویزات شامل ہیں۔ تلاشی کے دوران دیسی ساختہ بارودی مواد (IEDs) اور ‘بوبی ٹریپ’ (Booby trapped) کیا گیا اسلحہ بھی ملا ہے۔ عسکری ماہرین کے مطابق، اس چوکی کی کوئی مزید دفاعی ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے اسے دھماکہ خیز مواد سے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آپریشن غضب لِلحق کی تازہ ترین صورتحال: 331 افغان طالبان ہلاک، 104 چوکیاں تباہ اور 22 پر پاکستانی فورسز کا قبضہ

کارروائی کے دوران دشمن کے زیرِ استعمال مواصلاتی آلات بھی برآمد ہوئے ہیں جن میں موٹرولا ہینڈ ہیلڈ وائرلیس کمیونیکیشن سیٹ شامل ہے، جبکہ بجلی سے چلنے والی مختلف اشیاء اور دیگر برتن بھی قبضے میں لیے گئے ہیں۔ مزید برآں، چوکی سے افغان طالبان اہلکاروں کے اصل شناختی کارڈز، ان کی وردیاں اور بستر بھی ملے ہیں، جو دشمن کی جلد بازی میں پسپائی کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات کا بڑا بیان: افغانستان میں 37 مقامات پر فضائی حملے، 104 چوکیاں تباہ اور 22 پر پاکستانی قبضہ

افغان طالبان کی جارحیت کے خلاف پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے بھرپور اور طاقتور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ نے ایک بڑی کارروائی کے دوران قندھار میں افغان فوج کے ہیڈ کوارٹرز کو مؤثر انداز میں نشانہ بنا کر مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی افواج غیر متزلزل عزم کے ساتھ ملکی سرحدوں کی حفاظت کے لیے سینہ سپر ہیں اور دشمن کی عسکری تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے آپریشن غضب لِلحق کے حوالے سے آج صبح 9 بجے تک کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تک کی کارروائیوں میں طالبان رجیم کے 331 اہلکار اور خوارج ہلاک جبکہ 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ وزیرِ اطلاعات کے مطابق دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا ہے اور اب تک ان کے 163 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تباہ کی جا چکی ہیں۔

عطا اللہ تارڑ نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ افغانستان بھر میں اب تک 37 مختلف مقامات کو فضائی کارروائیوں میں کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس آپریشن کے نتیجے میں طالبان کی 104 چوکیوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے، جبکہ 22 اہم عسکری چوکیاں اب پاکستان کے قبضے میں آ چکی ہیں۔ حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ ملکی دفاع کے لیے یہ کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری ہیں۔

Scroll to Top