اسرائیل کا تہران پر میزائل حملہ: آیت اللہ خامنہ ای کے دفاتر کے قریب دھماکے، ایران میں ہنگامی صورتحال

تہران: اسرائیل نے ایران پر باقاعدہ حملہ کر دیا ہے جس میں دارالحکومت تہران کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پہلا حملہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفاتر کے قریب کیا گیا، جس کے بعد شہر کے مختلف حصوں میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور دھوئیں کے بادل بلند ہو رہے ہیں۔

تہران میں میزائل حملے:

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق تہران کے مرکز میں تین بڑے دھماکوں کی اطلاع ملی ہے۔ تہران یونیورسٹی کی شاہراہ اور جمہوری علاقے کو میزائلوں سے ہدف بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ شمالی تہران میں مزید دو میزائل حملے ہوئے جبکہ شہر کے مضافاتی علاقوں میں بھی دھوئیں کے بادل دیکھے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے مضحکہ خیز دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف “حفاظتی حملہ” شروع کر دیا ہے تاکہ خطرات کو ختم کیا جا سکے۔

اسرائیل میں ہنگامی اقدامات اور سائرن:

حملے کے بعد اسرائیلی فوجی حکام نے پورے ملک میں الرٹ جاری کر دیا ہے۔ اسرائیل بھر میں اسکول بند کر دیے گئے ہیں اور عوام کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت کے ساتھ ساتھ عوامی اجتماعات پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس سمیت مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے ہیں۔

پاکستانی شہریوں کے لیے اہم سفری ہدایت نامہ:

پاکستانی وزارتِ خارجہ نے صورتحال کے پیشِ نظر اپنے شہریوں کے لیے ہنگامی ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے۔ پاکستانیوں کو ایران کے ہر قسم کے سفر سے گریز کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ایران میں مقیم پاکستانی شہریوں کو انتہائی احتیاط برتنے، چوکس رہنے اور غیر ضروری نقل و حرکت سے بچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دفترِ خارجہ نے تاکید کی ہے کہ شہری سفارتی مشنز سے مسلسل رابطے میں رہیں، اس مقصد کے لیے خصوصی ہیلپ لائن نمبرز بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آپریشن غضب لِلحق کی تازہ ترین صورتحال: 331 افغان طالبان ہلاک، 104 چوکیاں تباہ اور 22 پر پاکستانی فورسز کا قبضہ

Scroll to Top