شادی شدہ خواتین کے پاسپورٹ سے متعلق حکومت کا بڑا فیصلہ سامنے آ گیا

حکومت پاکستان نے شادی شدہ خواتین کے لیے پاسپورٹ کے قوانین میں اہم اصلاحات کر دی ہیں جس کے تحت اب خواتین کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنے پاسپورٹ میں والد کا نام برقرار رکھ سکیں۔ اس نئے اقدام کا بنیادی مقصد خواتین کو ان کی شناختی دستاویزات میں مکمل خودمختاری فراہم کرنا ہے۔ یہ بڑا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کے بعد کیا گیا ہے تاکہ خواتین اپنے شناختی حقوق کو بہتر طریقے سے استعمال کر سکیں۔

محکمہ پاسپورٹ کے مطابق عدالتی حکم کی روشنی میں پاسپورٹ کے سسٹم میں ضروری تبدیلیاں کر دی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں وزارت داخلہ اور قانون کی رہنمائی حاصل کی گئی ہے اور پاسپورٹ بنانے والے سافٹ ویئر کو بھی مکمل طور پر اپڈیٹ کر دیا گیا ہے۔ اب شادی شدہ خواتین کے پاس یہ قانونی حق ہوگا کہ وہ اپنے پاسپورٹ پر والد کے نام کو تبدیل نہ کروائیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم رمضان ریلیف پیکج: کیا آپ 13 ہزار روپے کے اہل ہیں؟ اپنی اہلیت چیک کرنے کا طریقہ جانیں

حکام کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے پاسپورٹ بنوانے کا عمل مزید شفاف اور آسان ہو جائے گا۔ اس اصلاحات کا مقصد خواتین کو قانونی شناخت میں مکمل بااختیار بنانا ہے تاکہ وہ کسی بھی رکاوٹ کے بغیر اپنی ترجیح کے مطابق والد کا نام استعمال کر سکیں۔

مزید پڑھیں: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شکایات کے اندراج کا طریقہ کار آسان بنا دیا گیا

Scroll to Top