حکومت آزاد کشمیر کا بڑا فیصلہ: شہید سدھیر اعوان کے اہل خانہ کے لیے سرکاری ملازمتوں کا نوٹیفکیشن جاری

آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر نے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کے دوران جاں بحق ہونے والے کٹھہ چوگلی، نیلم ویلی کے نوجوان سدھیر اعوان کے خاندان کے لیے سرکاری ملازمتوں کی منظوری دے دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت عامہ (نظامت اعلیٰ) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین حکم نامے کے مطابق، کابینہ کے فیصلے کی تعمیل میں شہید کے دو قریبی اہل خانہ کو مستقل بنیادوں پر محکمہ صحت میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ نوٹیفکیشن حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندان کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی تکمیل کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا الیکشن رکوانے کا مطالبہ اور آزاد کشمیر کا قانون: کیا احتجاج سے الیکشن رک سکتے ہیں؟

جاری کردہ باقاعدہ آرڈر کی تفصیلات کے مطابق، شہید سدھیر اعوان کی بیوہ عنصر بی بی کو محکمہ صحت میں بطور فیملی اٹینڈنٹ (بی-2) تعینات کر دیا گیا ہے۔ ان کی یہ تعیناتی تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال آٹھمقام میں موجود خالی اسامی کے خلاف کی گئی ہے تاکہ وہ اپنے فرائض سرانجام دے سکیں۔ یہ تعیناتی انسانی ہمدردی اور شہید کی قربانی کے اعتراف میں کابینہ کے خصوصی اختیارات کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔

اس کے ساتھ ہی، اسی حکم نامے کے ذریعے شہید کے بھائی محمد ارشد ولد محمد سلیمان کو بھی بی-2 سکیل میں اٹینڈنٹ کے طور پر ملازمت فراہم کر دی گئی ہے۔ محمد ارشد کی تعیناتی بی ایچ یو (BHU) کٹھہ، ضلع نیلم میں خالی اسامی پر کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: ایکشن کمیٹی کا طویل اجلاس اور3ماہ بعد احتجاج کی کال،کہانی آخر کیا ہے؟

سرکاری دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ دونوں تقرریاں فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی اور ان کی نقول چیف سیکرٹری، سیکرٹری صحت اور دیگر متعلقہ حکام کو ارسال کر دی گئی ہیں تاکہ عملدرآمد کی رپورٹ پیش کی جا سکے۔

Scroll to Top