جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا الیکشن رکوانے کا مطالبہ اور آزاد کشمیر کا قانون: کیا احتجاج سے الیکشن رک سکتے ہیں؟

آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے مطالبات پورے ہونے تک آئندہ الیکشن رکوانے کا ردعمل دیا ہے، جس کے بعد اس معاملے کی قانونی حیثیت پر بحث چھڑ گئی ہے۔ قانون کے مطابق، اگر عوامی ایکشن کمیٹی ایک تنظیم یا پریشر گروپ ہے تو وہ خود سے الیکشن نہیں رکوا سکتی۔

آزاد کشمیر میں انتخابات کروانے کا اختیار صرف الیکشن کمیشن کے پاس ہے جو آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین 1974 کے تحت کام کرتا ہے۔ آئین کی شق 50 کے تحت الیکشن کمیشن ہی انتخابات کی نگرانی اور کنٹرول کا مجاز ہے، جبکہ شق 21 کے تحت اسمبلی کی مدت پوری ہونے پر وقت پر الیکشن کرانا لازم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عوامی ایکشن کمیٹی 9 جون کو پھر ریاست گیر احتجاج کی کال دیدی

کوئی بھی تنظیم الیکشن کے خلاف احتجاج، جلسہ یا عدالت میں رِٹ پٹیشن تو دائر کر سکتی ہے، لیکن الیکشن کو روکنے یا ملتوی کرنے کا اختیار صرف الیکشن کمیشن یا عدالت (ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ) کے پاس ہے۔ الیکشن صرف امن و امان کی شدید خرابی، قدرتی آفت، عدالتی حکم یا کسی آئینی پیچیدگی کی صورت میں ہی رک سکتے ہیں۔ جب تک عدالت یا الیکشن کمیشن کوئی قانونی حکم جاری نہ کرے، کوئی کمیٹی یا تنظیم اپنی مرضی سے الیکشن نہیں روک سکتی۔

مزید پڑھیں: عوامی ایکشن کمیٹی میں اختلافات؟ سردار عمر نذیر کا ’گارنٹر‘ کی موجودگی سے صاف انکار

Scroll to Top